ملک بھر میں انڈگو کی پروازیں شدید متاثر، ہزاروں مسافر گھنٹوں تک ایئرپورٹس پر پھنسے، حیدرآباد ایئرپورٹ پر بھی افراتفری

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرلائن انڈگو کے شدید آپریشنل بحران نے بدھ اور جمعرات کو ملک بھر کے ایئرپورٹس کو افراتفری کے منظر میں بدل دیا۔ 500 سے زائد پروازوں کی منسوخی اور طویل تاخیر کے باعث دہلی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں مسافر گھنٹوں تک پریشان رہے۔ کئی مقامات پر مسافروں نے ایئر لائن کے خلاف نعرے بازی کی، جبکہ ایئرپورٹ لاؤنجز میں سوٹ کیسوں کے ڈھیر جمع ہوگئے۔

دہلی ایئرپورٹ پر مسافر 12 سے 14 گھنٹے تک اپنی پروازوں اور سامان کے انتظار میں بھوکے پیاسے بیٹھے رہے۔ مسافروں نے شکایت کی کہ انڈگو کے کاؤنٹر خالی ہیں، عملہ معلومات دینے سے قاصر ہے اور ہر بار ایک یا دو گھنٹے کی تاخیر کا بہانہ دیا جاتا ہے۔ ایک مسافر نے اسے “ذہنی اذیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “نہ کھانا، نہ پانی، نہ بات سننے کے لیے کوئی موجود ہے۔”

اسی طرح حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی صورتِ حال بگڑ گئی، جہاں انڈگو نے ایک ہی دن میں 37 آؤٹ باؤنڈ اور تقریباً اتنی ہی ان باؤنڈ پروازیں منسوخ کردیں۔ مسلسل تاخیر اور غیر واضح معلومات کے باعث مسافروں نے نعرے بازی کی، احتجاجی مارچ نکالا اور کئی لوگوں نے شکایت کی کہ انہیں نہ کھانا دیا گیا نہ رہائش۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مسافر انڈگو کے خلاف “Indigo Murdabad” اور “Indigo بند کرو” جیسے نعرے لگاتے نظر آئے۔ ایک صارف کے مطابق وہ 15 گھنٹے سے ایئرپورٹ پر موجود تھے جبکہ ایئرلائن مسلسل “کرو ابھی پہنچ رہا ہے” کہہ کر وقت ٹالتی رہی۔

ایئرپورٹ انتظامیہ نے کہا کہ یہ تمام تاخیر اور منسوخیاں ایئرلائن کی تکنیکی اور آپریشنل مشکلات کا نتیجہ ہیں، جبکہ ایئرپورٹ کی مجموعی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

انڈگو کے سی ای او پیئٹر ایلبرز نے اپنے ملازمین کے نام پیغام میں اعتراف کیا کہ ایئرلائن اپنے وعدے پر کھری نہیں اتری۔ انہوں نے کہا کہ متعدد تکنیکی مسائل، شیڈول تبدیلیاں، خراب موسم، ایوی ایشن سسٹم میں بڑھتی بھیڑ اور نئے ایف ڈی ٹی ایل (Flight Duty Time Limitations) قوانین نے مل کر آپریشنز کو شدید متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کی اولین ترجیح وقت کی پابندی دوبارہ بحال کرنا ہے، “جو آسان کام نہیں ہے۔” انڈگو روزانہ تقریباً 2,300 پروازیں چلاتی ہے، مگر اس کی آن ٹائم پرفارمنس 3 دسمبر کو گر کر صرف 19.7 فیصد رہ گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں