حیدرآباد (دکن فائلز) بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے مسجد غوثیہ (ضلع گونڈیا) کی جانب سے عبادات کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت طلب کرنے والی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ کسی بھی مذہب میں عبادت کے لیے آواز بڑھانے والے آلات، ڈرم یا ایمپلی فائرز کا استعمال لازمی نہیں۔ جسٹس انیل پانسرے اور جسٹس راج واکوڈے پر مشتمل بنچ نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ مذہبی آزادی دوسروں کے امن و سکون کو نقصان پہنچا کر استعمال نہیں کی جاسکتی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو مذہبی فریضہ ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتبار مواد پیش نہ کر سکا، اس لیے اسے بطورِ حق یہ اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بنچ نے زور دیا کہ “کوئی مذہب یہ تعلیم نہیں دیتا کہ عبادت اس انداز میں کی جائے کہ دوسروں کے آرام میں خلل پڑے۔” عدالت نے صوتی (شور) آلودگی کے بڑھتے واقعات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت سے مؤثر اور جامع پالیسی کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت بھی دی۔
بنچ نے کہا کہ شور آلودگی نہ صرف ایک سماجی مسئلہ ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بھی ہے، جو جسم میں ’کورٹی سول‘ جیسے نقصان دہ کیمیکلز کے اضافے کا باعث بنتا ہے، جس سے ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، ذہنی دباؤ، بے چینی، غصہ، تھکن اور دیگر پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ عدالت نے وضاحت کی کہ 120 ڈیسی بل سے بلند شور کان کے پردے کو پھاڑ سکتا ہے اور مستقل سماعتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ بنچ نے ناگپور کے سول لائنز علاقے میں شادی ہالز اور دیگر تقاریب کے دوران شور آلودگی کے کھلم کھلا قوانین کی خلاف ورزیوں کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے مقامات کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے قوانین کی مکمل پابندی کو یقینی بنانا چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ صرف مساجد ہی نہیں، بلکہ متعدد مذہبی مقامات ایسے ہیں جہاں بھجن اور دیگر رسومات لاؤڈ اسپیکر پر کی جاتی ہیں، جو قوانین کے خلاف ہے۔ بنچ نے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اس حساس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے جلد مؤثر اقدامات کرے گی تاکہ عوامی سکون، صحت اور شہریوں کے حقِ خاموشی کا تحفظ ہو سکے۔


