حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے وِدیشا ضلع میں 20 سالہ آشا پرجاپتی کا معاملہ صرف ایک مذہبی تبدیلی کا مسئلہ نہیں، یہ آئینی آزادی، ریاستی رویہ اور شہری حقوق کا امتحان بھی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آشا نے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کرنے کی درخواست دی، لیکن انتظامیہ نے اس کے صاف، واضح اور مضبوط بیان کے باوجود اسے “کاؤنسلنگ” اور “پس منظر کی تفتیش” کے نام پر ایسے چکر میں جھونک دیا ہے جو کسی بالغ شہری کی خودمختاری پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
آشا کی زندگی کسی عام لڑکی جیسی نہیں ہے۔ کم عمری میں ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ایک سال قبل والد بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ تعلیم دسویں جماعت تک محدود رہی۔ معاشی حالات نے انہیں یومیہ مزدوری پر مجبور کیا۔ نابالغ بہن نانا کے گھر رہتی ہے اور آشا تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔
یہ وہ پس منظر ہے جس سے گزر کر آشا نے اپنے روحانی راستے کا انتخاب کیا، اور اسلام قبول کرکے سکون و راحت محسوس کی۔ ایمانی جذبہ سے سرشار آشا گذشتہ تین سال سے کلمہ توحید کا ورد کرتی ہیں اور پابندی سے نماز ادا کرتی ہیں۔ اور پورے یقین و محبت کے ساتھ اسلام کی تعلیمات پر عمل کر رہی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آشا کا حوصلہ قابلِ ستائش ہے۔ کوئی خاندان نہیں، کوئی سہار ا نہیں، اس کے فیصلے کے پیچھے صرف اور صرف آشا کا اسلام پر ایمان، اسلام سے متعلق مطالعہ اور اس کا روحانی سکون ہے۔
آشا نے اسلام قبول کرنے سے متعلق انتظامیہ کو درخواست دی، جس میں انہوں نے واضح اور مضبوط الفاظ میں کہا کہ اسلام اختیار کرنا ان کا خالصتاً ذاتی فیصلہ ہے۔ کوئی دباؤ، لالچ یا زور زبردستی نہیں۔
پھر بھی انتظامیہ نے انہیں ایس پی آفس طلب کیا، پولیس اور ویمن اینڈ چائلڈ ٹیم کے ذریعہ کاؤنسلنگ کروائی گئی۔ پس منظر کی غیرضروری تفتیش شروع کردی۔
اب یہاں یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا بالغ شہری کا واضح بیان انتظامیہ کے لیے کافی نہیں؟ اگر کوئی مسلم شہری ہندو مذہب اختیار کرنا چاہے تو کیا اسی طرح کی کڑی جانچ ہوتی ہے؟ کیا مذہبی آزادی کا حق صرف کتابوں میں محفوظ ہے اور عملی میدان میں خوف و شبہات کے ترازو میں تولا جاتا ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ آئین ہند ہر شہری کو مذہب اختیار کرنے، ترک کرنے یا قبول کرنے کا مکمل حق دیتا ہے۔ مگر جب معاملہ اسلام قبول کرنے کا ہو تو انتظامیہ کو “تفتیش”، “شکوک” اور “کاؤنسلنگ” کیوں یاد آجاتی ہے؟
قابلِ تحسین ہے کہ اتنی کمزور معاشی و سماجی پوزیشن کے باوجود آشا پرجاپتی نہ ڈری، نہ جھکی، نہ دباؤ میں آئیں۔ اسلام کے لیے وہ ہر سوال کا سامنا کر رہی ہیں، ہر رکاوٹ برداشت کر رہی ہیں، ہر دروازے پر دستک دے رہی ہیں اور چہرے پر ایک مؤمنہ کا اطمینان لیے آگے بڑھ رہی ہے۔
آشا کا یقین، ثابت قدمی اور مقصدیت سے بھرپور سفر آج کے سماجی دباؤ والے ماحول میں ایک جرأت مندانہ مثال ہے۔ اگر آشا بالغ ہے، بااختیار ہے، آزادانہ فیصلہ کر رہی ہے، تو پھر اسے “سمجھانے” کی کیوں ضرورت؟ اس کے عظیم الشان ایمان پر انتظامیہ کی فائلوں کا بوجھ بہت کم نظر آتا ہے۔


