بنگال میں ’بابری مسجد‘ کا سنگِ بنیاد آج، تقریب میں لاکھوں مسلمان شریک، بڑے پیمانہ پر انتظامات، سیکورٹی سخت

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع میں معطل شدہ ٹی ایم سی رکنِ اسمبلی ہمایوں کبیر کی جانب سے بیلڈانگا میں تعمیر کی جانے والی ’بابری مسجد طرز‘ مسجد کے سنگِ بنیاد آج رکھا جارہا ہے، 6 دسمبر 12 بجے دن میں ’بابری مسجد‘ کا سنگ بنیاد رکھنے کےلئے بڑے پیمانہ پر انتظامات کئے گئے ہیں۔ منتظمین کے مطابق اس میں ملک کی مختلف ریاستوں کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ دو سعودی قاضی بھی شرکت کریں گے۔

ہمایوں کبیر، جنہیں پارٹی مخالف طرزِ عمل کے الزام میں جمعرات کو ٹی ایم سی نے معطل کیا، اپنے منصوبے پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً تین لاکھ افراد اس تقریب میں شرکت کررہے ہیں۔ جگہ جگہ خیمے، اسٹیج اور استقبالیہ ڈھانچے تیزی سے تیار کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب سے آنے والے دو مذہبی رہنماؤں کے لیے خصوصی قافلہ کلکتہ ایئرپورٹ سے پہنچے گا۔ بڑے اسٹیج، مہمانوں کے لیے خصوصی نشستوں اور وسیع انتظامات نے پورے علاقے کو ایک بڑے اجتماع کی شکل دے دی ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز اس تقریب پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون و امان برقرار رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ علاقے میں پولیس فورس کی مناسب تعیناتی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے بھی کہا کہ 19 کمپنیوں پر مشتمل سی اے پی ایف پہلے ہی ضلع میں موجود ہے، اور ضرورت پڑنے پر فوری ڈیوٹی پر لگائی جا سکتی ہے۔

تقریب کے دوران قومی شاہراہ NH-12 پر ٹریفک متاثر نہ ہو، اس کے لیے 3,000 سے زائد پولیس اہلکار موقع پر تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ متبادل ٹریفک پلان بھی تیار رکھا گیا ہے۔

تقریب کو روکنے کی درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس طرح کے اجتماع سے امن و امان متاثر ہو سکتا ہے۔ درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ بعض بیانات سے غلط فہمیاں جنم لے سکتی ہیں، اس لیے احتیاط برتی جائے۔

عدالت نے ریاستی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد کسی قسم کی مداخلت سے انکار کر دیا، تاہم واضح کیا کہ اگر امن میں خلل پڑتا ہے، تو ریاست کی جوابدہی طے ہوگی۔

دوسری جانب، ہمایوں کبیر کی جانب سے عدالت میں یہ تحریری یقین دہانی بھی جمع کرائی گئی کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ماحول خراب ہو۔

موقع پر پہنچنے والوں میں سے کچھ لوگ اس تعمیری عمل میں اپنی شرکت کو نیکی تصور کرتے ہوئے اینٹیں اٹھاکر لے جاتے نظر آئے۔ ایک شخص شفیق الاسلام نے کہا کہ وہ مسجد کی تعمیر کے لیے اپنی محنت کو خدمات سمجھتے ہیں۔

6 دسمبر، جس دن یہ سنگِ بنیاد رکھا جا رہا ہے، اسی روز 1992 کو ایودھیا میں ہندوتوا شدت پسندوں کی جانب سے بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا۔ اسی پس منظر میں اس پروگرام نے ریاستی سطح پر خاص توجہ حاصل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں