حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کے ضلع بیر بھوم کی 26 سالہ سنالی خاتون اور اُن کا چھوٹا بیٹا صابر، جنہیں چند ماہ قبل دہلی پولیس نے بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہے میں حراست میں لے کر بغیر مکمل قانونی کارروائی کے سرحد پار بھیج دیا تھا، جمعہ کی شام شمالی بنگال کے مالدہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچ گئے۔ دونوں نے 103 دن بنگلہ دیش کی چپّائی نواب گنج جیل میں مبینہ درانداز کے طور پر گزارے۔ اُن کی واپسی سپریم کورٹ کی جانب سے مرکزی حکومت کو جاری کردہ واضح ہدایات کے بعد ممکن ہو پائی۔
سرکاری حکام کے مطابق سنالی، جو حمل کے آخری مہینے میں ہیں، کو مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے ڈپٹی ہائی کمشنر کے دفتر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔ انہیں سب سے پہلے مہدی پور میں بی ایس ایف کیمپ لے جایا گیا جہاں ضروری دستاویزات کی تکمیل کی گئی۔ بعد ازاں انہیں طبی جانچ کے لیے مالدہ میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مشورہ کے بعد انہیں سفر کی اجازت دی جائے گی اور ہفتے کے روز انہیں اُن کے گھر، بیر بھوم ضلع کے موراری میں واقع ڈورجی پارہ، پہنچا دیا جائے گا۔
سنالی خاتون کو 18 جون کو دہلی کے کٹجو نگر پولیس اسٹیشن نے روہنی سیکٹر 26 کے “بنگالی بستی” سے گرفتار کیا تھا، جہاں وہ بیس برس سے زیادہ عرصہ سے کباڑی اور کچرا چننے کا کام کر کے اپنا گزر بسر کر رہی تھیں۔ بعد ازاں ایف آر آر او کے حکم پر سنالی، اُن کے شوہر دانش اور بیٹے کو بنگلہ دیش منتقل کر دیا گیا۔ اسی کے ساتھ بیر بھوم ہی کے ایک اور خاندان سویٹی بی بی اور اُن کے دو بیٹے قربان شیخ (16) اور امام دیوان (6) کو بھی سرحد پار بھیج دیا گیا۔
یہ تمام افراد 20 اگست سے بنگلہ دیش کی جیل میں قید تھے، یہاں تک کہ یکم دسمبر کو مقامی عدالتی حکم پر انہیں پانچ ہزار ٹکا کے مچلکے پر ضمانت دی گئی۔ مرکزی حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کی اس ہدایت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی جس میں چار ہفتوں کے اندر اندر انہیں واپس لانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ مغربی بنگال حکومت نے مرکز کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی، کیونکہ ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت اور جسٹس جے باگچی پر مشتمل بنچ نے مرکز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شہری ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو بغیر ثبوت کے “درانداز” قرار دے کر سرحد پار دھکیل دینا آئینی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے ریکارڈ پر موجود متعدد شواہد 1952 کے زمین کے کاغذات، 2002 کی ووٹر لسٹ جس میں سنالی کے والدین کے نام درج ہیں، بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹس اور آدھار و پین کارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا یہ دعویٰ کہ سنالی 1998 میں غیر قانونی طور پر آئی تھیں، قطعی بے بنیاد ہے، کیونکہ اس وقت وہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ غیر ملکیوں کو ملک سے نکالا جا سکتا ہے لیکن شہریوں کو نہیں۔ ’’اگر کوئی کہتا ہے کہ وہ بھارت میں پیدا ہوا، یہی پلا بڑھا، تو اس کا موقف سننا ضروری ہے۔‘‘ بنچ نے کہا کہ تین دسمبر کو مرکزی حکومت نے بتایا کہ وہ انسانیت کی بنیاد پر سنالی اور اُن کے کمسن بیٹے کو واپس لائے گی۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ سمیرو اسلام نے سنالی کی واپسی کو ’’غریب بنگالیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف تاریخی کامیابی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود مرکز نے فوری کارروائی نہیں کی جس کے سبب پارٹی کے وکلاء کو دوبارہ عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
مالدہ ضلع پریشد کی صدر لپیکا برمن گھوش نے بارڈر پر موجود رہتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب عدالت نے سبھی چھ افراد کی واپسی کا حکم دیا ہے تو باقی چار کو کیوں نہیں لایا گیا۔ ’’میں نے ڈپٹی ہائی کمشنر سے پوچھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ سنالی کے شوہر اور دیگر تین افراد کو کب وطن واپس لایا جائے گا، کیونکہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں بھی واضح حکم جاری کیا تھا۔


