حیدرآباد (دکن فائلز) کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی ایک جعلی اور AI تکنیک سے تیار کی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے، جس میں صدر مجلس کو ’فرضی طور پر ایک مندر میں پوجا کرتے‘ دکھایا گیا۔ اس ویڈیو کے خلاف مسلمانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور محبان مجلس نے شدید غم و غصہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس میں اس کی شکایت کی۔
یہ ویڈیو مکمل طور پر فرضی، جعلی، جھوٹا اور ڈیپ فیک ثابت ہوا ہے۔ مجلس کے سوشل میڈیا ایڈمن محمد عرفان خان نے اس سلسلے میں پولیس میں شکایت درج کروائی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ کچھ مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے جان بوجھ کر یہ ویڈیو پوسٹ کی، تاکہ اویسی کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جائے، عوام میں گمراہ کن معلومات پھیلائی جائیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کیا جائے۔
حیدرآباد پولیس نے شکایت کی بنیاد پر آئی ٹی ایکٹ 2008 اور بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی ممتعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ ڈیپ فیک ویڈیو کے واضح ثبوت کچھ اس طرح ہیں:
● ویڈیو میں کیمرے کا اینگل اچانک بدل جاتا ہے، حالانکہ عام ویڈیو میں ایسا ممکن نہیں۔
● اویسی اور پجاری کے چہروں پر کوئی تبدیلی نہیں آتی، ’’فریزڈ فیشل ایکسپریشن‘‘ AI ویڈیو کی نمایاں علامت ہے۔
● ہاتھوں کی معمولی حرکت اور غیر قدرتی بیک گراؤنڈ ویڈیو کو مشکوک بناتے ہیں۔
● مندر کا نام غلط لکھا گیا ہے — ’Hanuman Mandir‘ کی جگہ ’Hanuman Meedar‘۔
● ویڈیو پر ’’Gemini AI‘‘ کا واضح واٹر مارک موجود ہے۔
● HIVE Moderation جیسے AI ڈیٹیکشن ٹول نے بھی ویڈیو کو ’’AI Generated / Deepfake‘‘ قرار دیا۔
یہ واقعہ اس بات کی سنگین مثال ہے کہ کس طرح جدید AI ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اویسی صاحب کی شبیہ کو نشانہ بنا کر معاشرتی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش انتہائی مذموم، مجرمانہ اور سیاسی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔ ایسے عناصر نہ صرف قانون کے مجرم ہیں بلکہ سماجی عدم استحکام کے ذمہ دار بھی ہیں۔


