حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے جیڈی میٹلہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک نہایت دردناک اور غمزدہ واقعہ پیش آیا ہے جہاں شدید مالی مشکلات کے باعث ایک خاندان اپنے سربراہ کی موت کے بعد تین دن تک لاش کے ساتھ ہی گھر میں رہنے پر مجبور رہا۔ بعد میں جب معاملہ مالک مکان اور پولیس کی نظر میں آیا تو ایک رضاکار تنظیم کی مدد سے آخری رسومات ادا کی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق، محبوبنگر ضلع سے تعلق رکھنے والے 76 سالہ سوامی داس اپنی بیٹی اور اہلِ خانہ کے ساتھ این ایل بی نگر، شاہ پور نگر میں کرایہ کے مکان میں رہتے تھے۔ ان کی چھوٹی بیٹی سلوٖنی ایک نجی اسپتال میں نرس کے طور پر کام کر رہی تھیں، مگر والد کی شدید بیماری اور گھریلو ذمہ داریوں کے باعث انہوں نے کچھ ماہ قبل ملازمت چھوڑ دی۔ سوامی داس کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی، اور بالآخر تین دن پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔
مگر افسوسناک امر یہ تھا کہ خاندان کے پاس آخری رسومات ادا کرنے کے لیے رقم نہیں تھی، گھریلو غربت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اہلِ خانہ نے لاش کو تین دن تک گھر ہی میں رکھا ہوا تھا۔ اس دوران کوئی بھی گھر سے باہر نہیں آیا، جس سے مالک مکان کو شک ہوا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اسے سوامی داس کی موت کا علم ہوا اور اس نے فوراً پولیس کو مطلع کیا۔
پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو گاندھی اسپتال منتقل کر دیا۔ بعد ازاں ’’ستیہ ہریش چندر فاوٗنڈیشن‘‘ نامی رضاکار تنظیم نے سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوامی داس کی آخری رسومات ادا کرائیں۔ انتظامیہ نے خاندان کی حالت زار کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں راجیو نگر، رانی گنج کے ایک این جی او شیلٹر ہوم میں منتقل کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار تھا اور گزشتہ کئی ماہ سے کرایہ بھی ادا نہیں کر سکا تھا۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ شہروں میں ایسے غریب خاندان بھی موجود ہیں جو بنیادی انسانی ضروریات تک سے محروم ہیں، اور کسی عزیز کی موت بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے۔


