بڑی خبر: اترپردیش میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا کے خلاف گھر گھر تلاشی مہم: کاغذات نہیں تو رہائش نہیں، یوگی کا اعلان، بڑے پیمانہ پر حراستی مراکز قائم، غریب مسلمانوں میں تشویش کی لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش پولیس نے ریاست بھر میں بنگلہ دیشی، روہنگیا اور دیگر مشتبہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی مہم شروع کر دی ہے۔ وارانسی میں یہ مہم سات دن تک جاری رہے گی، جس کے تحت جھگی بستیوں، ریڑھی فروشوں اور غیر منظم بستیوں میں رہنے والے افراد کی شناخت، کاغذات اور پس منظر کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی کے پاس قانونی کاغذات نہیں ہوں گے اور غیرقانونی طور پر کوئی ریاست میں داخل ہوگا تو اسے رہائش کا حق نہیں ہوگا۔

وارانسی کے پولیس ڈپٹی کمشنر گورو بنسوال کے مطابق، ہر فرد کی تفصیلات، تصاویر اور شناختی دستاویزات ایک سرکاری فارم میں درج کی جا رہی ہیں تاکہ ایسے افراد کی نشاندہی ہو سکے جو بھارتی شہریت کے بغیر برسوں سے مقیم ہیں۔

22 نومبر کو جاری سرکاری حکم نامہ کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے پورے یوپی میں گھر گھر سروے کا آغاز کیا ہے۔ جھانسی رینج کے آئی جی آکاش کلہاری نے تصدیق کی کہ شناخت شدہ افراد کو رکھنے کے لیے نیا حراستی مرکز جھانسی میں قائم کیا جائے گا، جہاں للت پور، جھانسی اور جالون کے غیر قانونی تارکینِ وطن کو رکھا جائے گا۔

آگرہ کے ڈی سی پی سید علی عباس نے انکشاف کیا کہ صرف میونسپل کارپوریشن میں تقریباً 3000 مشتبہ غیر قانونی افراد کام کر رہے ہیں۔ پولیس ٹیمیں گھر گھر جا کر شناختی کارڈ، پتے اور ممکنہ مجرمانہ ریکارڈ کی پڑتال کر رہی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق دو سال قبل کی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پورے یوپی میں تقریباً 10 لاکھ غیر قانونی غیر ملکی موجود ہو سکتے ہیں، جن میں لکھنؤ اور آگرہ کے 6000 افراد شامل تھے۔ شناخت میں دشواریوں کے باعث اُس وقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی، مگر اس بار حکومت مارچ 2026 تک مکمل رپورٹ تیار کرنے کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد خالی سرکاری عمارتوں، کمیونٹی سینٹرز اور پولیس اسٹیشنوں کو عارضی یا مستقل حراستی مراکز میں بدلنے کا منصوبہ ہے۔ سماجی حلقوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور اقلیتی تنظیموں کے درمیان بے چینی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ستمبر اور اکتوبر 2025 میں چلنے والی “آئی لو محمد” مہم کے دوران یوپی میں 1000 سے زائد مسلم نوجوانوں پر مقدمات درج کیے گئے، پورے ملک میں 4500 سے زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، درجنوں نوجوان آج بھی جیلوں میں بند ہیں۔ کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے گھر گھر سروے کے درمیان شفافیت کو یقینی بنانا لازمی ہے تاکہ بے گناہ یا کمزور طبقات پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

ریاستی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی صرف غیر قانونی افراد کے خلاف ہے اور اس میں مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم، وسیع پیمانے پر ہونے والی نقل و حرکت، تیز تفتیش اور مستقبل میں قائم ہونے والے حراستی مراکز نے ریاستی عوام، خاص طور پر کمزور اور غریب طبقات کے درمیان تشویش کی فضا ضرور پیدا کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں