حیدرآباد (دکن فائلز) بنگلہ دیش کے نوجوان اور متنازع شدت پسند رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد ملک بھر میں شدید پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ 32 سالہ ہادی، جو سخت بھارت مخالف بیانات اور گزشتہ سال کی طلبہ تحریک میں مرکزی کردار کے باعث شہرت رکھتے تھے، سنگاپور کے ایک اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ میں انتخابی مہم کے آغاز کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی۔ سر میں گولی لگنے کے بعد انہیں پہلے ڈھاکہ کے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا، بعد ازاں نازک حالت کے باعث انہیں خصوصی ایئر ایمبولینس کے ذریعے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں چھ دن تک زندگی و موت کی کشمکش کے بعد وہ 18 دسمبر 2025 کو چل بسے۔
ہادی کی موت کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ڈھاکہ میں ملک کے دو بڑے اخبارات دی ڈیلی اسٹار اور پروتھوم آلو کے دفاتر کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی صحافی اور ملازمین عمارتوں میں پھنس گئے۔ فائر بریگیڈ کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم اخبارات نے اپنی پرنٹ اور آن لائن اشاعت عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ اسی طرح بزنس اسٹینڈرڈ اخبار بھی سکیورٹی خدشات کے باعث جمعہ کا ایڈیشن شائع نہ کر سکا۔
ملک کے دیگر شہروں، خصوصاً چٹگانگ میں، مظاہرین نے بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا اور شدید بھارت مخالف نعرے لگائے۔ راجشاہی میں مظاہرین نے بانیٔ بنگلہ دیش شیخ مجیب الرحمن کی رہائش گاہ اور عوامی لیگ کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا۔
یہ ہنگامے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔
ہندوستان نے ڈھاکہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن کو دی جانے والی دھمکیوں اور بنگلہ دیشی سیاسی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات پر بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے سخت سفارتی احتجاج درج کرایا تھا۔ بھارتی حکومت نے عثمان ہادی پر حملے سے متعلق اپنے ملوث ہونے کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں “انتہا پسند عناصر کی گھڑی ہوئی کہانی” قرار دیا ہے۔
عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے قوم سے خطاب میں عثمان ہادی کی موت کو “سیاسی اور جمہوری عمل کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان” قرار دیا۔ انہوں نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ تشدد آئندہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہو سکتا ہے۔
حکومت نے ہفتہ کے روز یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور ملک بھر میں خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ یونس نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت عثمان ہادی کی اہلیہ اور ان کے واحد بچے کی کفالت کی ذمہ داری لے گی۔
ڈھاکہ پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے ملک گیر تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔ دو مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کی گئی ہیں اور گرفتاری میں مدد دینے پر 50 لاکھ ٹکہ انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرحدی سکیورٹی بھی ہائی الرٹ پر ہے۔
عثمان ہادی کون تھے؟
شریف عثمان ہادی گزشتہ برس کی جولائی طلبا تحریک کے اہم رہنما تھے، جس نے شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا۔ وہ شدت پسند پلیٹ فارم انقلاب منچا کے ترجمان تھے، جسے بعد میں عبوری حکومت نے تحلیل کر کے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا، تاہم ہادی ڈھاکہ-8 سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابی مہم چلا رہے تھے۔
1994 میں ضلع جھالوکاٹھی میں پیدا ہونے والے ہادی پر الزام تھا کہ وہ “گریٹر بنگلہ دیش” کے نقشے پھیلاتے رہے، جن میں بھارت کے کچھ علاقے شامل دکھائے گئے تھے۔
بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بھارتی ہائی کمیشن، ڈھاکہ نے ہندوستانی شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ہنگامی صورت میں سفارتی مشنز سے رابطہ کریں۔


