حیدرآباد (دکن فائلز) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر رہنما دتاتریہ ہوسابلے کے ایک بیان نے ملک میں نیا سیاسی و سماجی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ سنت کبیر نگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہندو دھرم اعلیٰ ہے‘‘ اور ہندوستانی مسلمانوں کو ماحولیاتی وجوہات کی بنیاد پر سورج اور دریاؤں کی عبادت کرنی چاہیے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہوسابلے نے کہا، ’’اگر ہمارے مسلم بھائی سوریہ نمسکار کریں یا پرانایام کریں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مسجد جانا چھوڑ دیں۔‘‘ ان کے مطابق یہ مذہبی نہیں بلکہ صحت اور سائنس سے جڑی روایات ہیں۔
بیان میں انہوں نے ’’انسانی دھرم‘‘ کو ترجیح دینے کی بات کی اور تقسیمِ ہند کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوؤں کے ساتھ کیا ہوا، سب جانتے ہیں۔‘‘ اس تقریب میں بی جے پی کے متعدد اراکینِ اسمبلی بھی موجود تھے۔
آر ایس ایس رہنما کے بے ہودہ مطالبہ پر ملک بھر کے مسلمانوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا بیان کو ایک مذہب کو برتر اور اکثریتی ثقافت کو ’’معمول‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی ناپاک کوشش قرار دیا جارہا ہے، جس میں اقلیتوں کے لیے بالواسطہ assimilation کا پیغام پوشیدہ ہے۔
یاد رہے کہ جون میں ہوسابلے نے آئین کے دیباچے میں شامل الفاظ ’’سیکولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ پر بحث کا مطالبہ بھی کیا تھا، جس پر اپوزیشن نے شدید ردعمل دیا تھا۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ’’آر ایس ایس کو برابری اور انصاف کا تصور قبول نہیں۔‘‘ ملک کے سیکولرازم کردار پر سوال اٹھانے والے لیڈر بے شرمی سے خود کو محب وطن کہنے سے نہیں تھکتے۔


