اسٹاک ہوم مسجد کے باہر قرآنِ پاک کے نسخے کی بے حرمتی، مسلم برادری میں شدید تشویش

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں واقع ایک مسجد کو نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں مسجد انتظامیہ کے مطابق 21 دسمبر کو قرآنِ پاک کا ایک نسخہ ملا جس پر فائرنگ کی گئی تھی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سویڈن میں حالیہ برسوں کے دوران قرآن کی بے حرمتی کے متعدد واقعات کے باعث پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ اور اناطولیہ ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق، مسجد کی سیڑھیوں کی ریلنگ کے ساتھ قرآنِ پاک کا ایک نسخہ زنجیر سے بندھا ہوا ملا، جس پر چھ گولیوں کے نشانات تھے۔ اس کے علاوہ قرآن پر عربی اور سویڈش زبان میں نفرت انگیز پیغامات بھی تحریر تھے، جن میں لکھا تھا: “آمد کا شکریہ، مگر اب گھر واپس جانے کا وقت ہے۔”

اسٹاک ہوم مسجد کے چیئرمین محمود الحلیفی نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن میں اسلاموفوبک اور نسل پرستانہ حملوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ نے مسلم کمیونٹی میں گہری تشویش اور خوف پیدا کر دیا ہے۔

محمود الحلیفی کے مطابق، یہ پیغام مسلمانوں کے خلاف ایک کھلی نسل پرستانہ دھمکی ہے اور اسے ایک واضح نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف انتہائی توہین آمیز ہے بلکہ سویڈن میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی کے ایک وسیع رجحان کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

واقعہ کے بعد سویڈش پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ مسلم برادری اور مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مسجد انتظامیہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں اور مذہبی برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں