حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ میں بیف کا گوشت لے جانے کے الزام میں ایک مسلم تاجر شریف قریشی کو ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ شدت پسندوں نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعہ ہفتہ، 20 دسمبر کو ہردواگنج روڈ پر پیش آیا۔
42 سالہ شریف قریشی گزشتہ 20 سے 25 برسوں سے قانونی طور پر بکرے کے گوشت کی تجارت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ہمیشہ کی طرح علی گڑھ سے گوشت خرید کر اپنی دکان کی طرف جا رہے تھے، جب ایک کار اور موٹر سائیکلوں پر سوار افراد نے انہیں روک لیا اور گائے کا گوشت لے جانے کا الزام لگا کر تشدد شروع کر دیا۔
قریشی نے بتایا کہ انہوں نے خریداری کے درست بل اور اجازت نامہ دکھانے کی کوشش کی، لیکن حملہ آوروں نے کاغذات پھاڑ دیے، موبائل فون اور نقدی چھین لی، اور موٹر سائیکل کو نقصان پہنچایا۔ انہیں پائپ، بیلٹ اور اینٹوں سے مارا گیا۔
ہردواگنج پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق سات افراد انوج پانڈت، شیلو راجپوت، نوین چودھری، سمیت ٹھاکر، آدتیہ ہندو، یشو پانڈت اور پرشانت جاٹو کے نام شامل ہیں، جبکہ 10 سے 12 افراد نامعلوم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2002605360993935817
پولیس نے گوشت کا نمونہ ضبط کر کے متھرا لیبارٹری بھیج دیا ہے تاکہ اس کی نوعیت کی تصدیق ہو سکے۔ شریف قریشی کو شدید چوٹیں آئیں، جن میں منہ پر آٹھ انچ لمبے ٹانکے شامل ہیں۔ انہیں جے این میڈیکل کالج سے علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔
اہل خانہ نے انصاف کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دادری، پہلو خان اور ناصر-جنید جیسے مقدمات آج تک انصاف کے منتظر ہیں۔ مقامی کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم رہنماؤں نے پولیس سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


