حیدرآباد (دکن فائلز) نئی دہلی میں منگل کے روز بنگلہ دیش میں ایک ہندو نوجوان کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے سینکڑوں کارکنان نے بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر شدید ہنگامہ آرائی کی، متعدد پولیس بیریکیڈز توڑ ڈالے اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔
احتجاجی زعفرانی جھنڈے تھامے ہوئے تھے اور بنگلہ دیش حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ پولیس کی جانب سے تین سطحی بیریکیڈنگ، اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے تھے، اس کے باوجود مظاہرین نے کم از کم دو تہوں کی بیریکیڈنگ توڑ دی۔
مظاہرین کی تختیوں پر بنگلہ دیش حکومت کے خلاف سخت نعرے درج تھے، جن میں ایک تختی پر لکھا تھا: “ہندو خون کی ایک ایک بوند کا حساب چاہیے”۔ یہ احتجاج بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ کے علاقے بالوکا میں 18 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کے بعد شروع ہوا، جہاں 25 سالہ گارمنٹس فیکٹری ورکر دیپو چندر داس کو مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں ہجوم نے تشدد کے بعد قتل کردیا تھا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس کے پتلے بھی نذر آتش کیے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ ادھر بنگلہ دیش حکومت نے بھارت میں اپنی سفارتی تنصیبات پر حملوں پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کیا۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ سفارتی اداروں پر تشدد بین الاقوامی اصولوں، امن اور رواداری کے منافی ہے۔
بھارتی حکومت نے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں احتجاج مختصر تھا اور کسی سفارتی اہلکار کو خطرہ لاحق نہیں ہوا۔


