حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے جبل پور شہر کے ردی چوکی علاقے کے انصار نگر میں واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران پیش آئے ہنگامہ نے نہ صرف علاقہ میں کشیدگی پیدا کر دی بلکہ پورے مسلم طبقہ کے لیے تشویش ناک صورتحال کو بھی بے نقاب کر دیا۔ امام کے انتخاب کو لے کر دو گروہوں کے درمیان تنازعہ اس قدر بڑھ گیا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر انتظامیہ کو مسجد کے دروازے پر تالہ لگا کر اسے سیل کرنا پڑا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مسجد کے باقاعدہ امام مولانا ریاض احمد کی علالت کے باعث مسجد کمیٹی نے عارضی طور پر ایک دوسرے مولانا کو نماز پڑھانے کے لیے مدعو کیا تھا۔ تاہم اس فیصلہ پر دوسرے محلہ سے آئے بعض افراد نے شدید اعتراض کیا اور مذکورہ مولانا کو “وہابی” قرار دیتے ہوئے انہیں نماز پڑھانے سے روک دیا۔ یہی اعتراض دیکھتے ہی دیکھتے تلخ کلامی، شور شرابے اور ہنگامے میں بدل گیا۔
تنازعہ کی خبر پھیلتے ہی مسجد اور اس کے اطراف بڑی تعداد میں نمازی اور مقامی لوگ جمع ہو گئے۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کر تین تھانوں کی پولیس فورس موقع پر تعینات کی گئی۔ بعد ازاں ایس ڈی ایم پنکج مشرا بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور دونوں فریقوں کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر فریقین اپنے مؤقف پر اڑے رہے اور کسی بھی طرح سمجھوتے پر آمادہ نظر نہیں آئے۔
صورتحال کی سنگینی اور ممکنہ فرقہ وارانہ یا سماجی کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے مسجد کے تمام دروازے سیل کر دیے۔ ایس ڈی ایم پنکج مشرا کے مطابق یہ فیصلہ محض امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے اور جب تک دونوں فریق باہمی رضامندی سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، مسجد نہیں کھولی جائے گی۔ دونوں گروہوں کو تھانے طلب کر کے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ واقعہ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف مذہبی اداروں کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ جانا کہ عبادت گاہ کو سیل کرنا پڑے، مسلم سماج کے لیے لمحۂ فکر ہے۔ دوسری طرف، انتظامیہ کی جانب سے مسجد کو تالہ لگانا اگرچہ امن و امان کے نام پر کیا گیا، لیکن اس سے یہ بحث بھی کھڑی ہوتی ہے کہ آیا عبادت گاہوں کو بند کرنا مسئلے کا حل ہے؟
دانشوروں اور سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ مسلکی اور فکری اختلافات کو شدت پسندی اور الزام تراشی کے بجائے مکالمے اور فہم و فراست سے حل کیا جانا چاہیے۔ “وہابی” جیسے لیبل لگا کر اختلاف کو بھڑکانا نہ صرف مذہبی رواداری کے خلاف ہے بلکہ اس سے سماجی ہم آہنگی کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
فی الحال علاقے میں پولیس فورس تعینات ہے اور حالات قابو میں بتائے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی دونوں فریق کسی نتیجے پر پہنچیں گے، مسجد کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مذہبی مقامات پر اتحاد، برداشت اور دانش مندی کی کمی کس طرح پورے مسلم طبقہ کےلئے فکر اور تشویش کا باعث بنا۔


