ممبئی ایئرپورٹ پر مسلم ملازم کے ساتھ بدسلوکی، بی جے پی خاتون لیڈر کا مکروہ چہرہ بے نقاب، سخت کارروائی کا مطالبہ (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک نہایت تشویش ناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں انڈیگو ایئرلائن کے ایک مسلم ملازم، عبداللہ خان، کو مبینہ طور پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر زبانی بدسلوکی اور تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق یہ بدسلوکی ایک خاتون نے کی، جو اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) بایو میں خود کو بی جے پی کی “اقلیتی لیڈر” اور “سناتنی” بتاتی ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون ملازم سے نہایت تحقیر آمیز اور اشتعال انگیز انداز میں مخاطب ہیں اور کہتی ہیں: “تم یہیں کھڑے رہو… عبداللہ خان، عبدل… پورا ملک تم جیسے لوگوں سے پریشان ہے۔”

یہ جملے نہ صرف مذہبی شناخت کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ واضح طور پر نفرت انگیز زبان اور ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ انڈیگو سمیت کسی بھی بڑی ایئرلائن میں بھرتی مذہب یا ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت، تربیت اور پیشہ ورانہ معیار پر ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ایک پیشہ ور ملازم کو اس کے نام اور عقیدے کی وجہ سے اس کے کام کی جگہ پر سرِعام ذلیل کیا جانا آئینی اقدار، برابری، وقار اور احترام کی صریح خلاف ورزی ہے۔

متنازع خاتون نے نہ صرف ویڈیو پوسٹ کی بلکہ اس میں مسلم ملازمین کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے “منی جہاد” جیسے الفاظ استعمال کیے اور ایئرلائن پر بے بنیاد، اشتعال انگیز الزامات بھی عائد کیے۔ ایسے بیانات کو وسیع پیمانے پر اسلاموفوبک، نفرت پھیلانے والا اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

اس واقعہ پر مختلف سیاسی رہنماؤں اور سماجی شخصیات نے سخت ردعمل دیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے اسے “زبانی حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون مسافر محض مذہب کی بنیاد پر انڈیگو کے ملازم کو ہراساں کر رہی ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ خود کو بی جے پی کی اقلیتی لیڈر بتاتی ہیں۔ انہوں نے انڈیگو سے سوال کیا کہ کیا وہ خاموش تماشائی بنے رہیں گے یا اپنے ملازم کے حق میں کھڑے ہوں گے۔

راجیہ سبھا کے رکن اور کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انڈیگو کو اپنے ملازم کے حق میں آگے آنا چاہیے، خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج کرانی چاہیے اور ایسے مسافروں پر مستقل سفری پابندی عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کار تحسین پوناوالا نے بھی اس رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کو ذلیل کرنا نہ انسانی اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے میں اس کی گنجائش ہے۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/ShayarImran/status/2003304531460063570

یہ واقعہ محض ایک فرد کی بدتمیزی نہیں بلکہ اس زہریلی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو روزمرہ زندگی میں ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش امتیاز، خوف اور تضحیک کی صورت میں نظر آتی ہے، خواہ وہ کام کی جگہ ہو، عوامی مقام یا سوشل میڈیا۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نفرت انگیز رویہ اختیار کرنے والی خاتون کا تعلق ایک بڑی سیاسی جماعت سے جوڑا جا رہا ہے، جو خود آئین اور قانون کی پاسداری کا دعویٰ کرتی ہے۔

اب نظریں انڈیگو ایئرلائن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہیں کہ آیا وہ اپنے ملازم کے وقار کے تحفظ کے لیے مؤثر قدم اٹھاتے ہیں یا اس واقعے کو بھی محض ایک وائرل ویڈیو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے گا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ نفرت، ہراسانی اور مذہبی تعصب کے خلاف واضح اور سخت کارروائی ہو، تاکہ ایسے رویوں کو معاشرے میں معمول بننے سے روکا جا سکے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں