ہندو خواتین چار بچے پیدا کریں! متنازعہ بیانات کے لئے بدنام نونیت رانا کی ایک بار پھر اشتعال انگیزی

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کی بی جے پی خاتون لیڈر اور سابق رکنِ پارلیمنٹ نونیت رانا ایک بار پھر اپنے متنازع اور اشتعال انگیز بیان کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ انہوں نے ملک کو “بچانے” کے نام پر ہندوؤں سے تین سے چار بچے پیدا کرنے کی اپیل کی ہے اور ایک خاص طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے آبادی کے مسئلے کو سازش سے جوڑ دیا ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے متنازعہ و بھڑکاؤ بیانات کےلئے بدنام نونیت رانا نے کہا کہ، ان سے ایک مولانا نے کہا کہ ان کی چار بیویاں ہیں اور 19 بچے ہیں۔ نونیت رانا نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہا کہ “اگر وہ 19 بچے پیدا کر سکتے ہیں تو میں ہر ہندو سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمیں بھی کم از کم تین یا چار بچے پیدا کرنے چاہئیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ زیادہ بچے پیدا کر کے ہندوستان کو پاکستان بنانے کی سازش کر رہے ہیں، اس لیے ہندوؤں کو بھی تعداد بڑھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “وہ ہندوستان میں پیدا ہوتے ہیں، مگر زیادہ بچے پیدا کر کے اس ملک کو پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ ہم صرف ایک بچے پر خوش کیوں ہیں؟ یہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔”

نونیت رانا کے ان بیانات نے سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ کانگریس، شیو سینا (یو بی ٹی) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ان کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ، نفرت انگیز اور سماج میں تقسیم پیدا کرنے والا قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ مانکم ٹھاکر نے اس بیان کو “پاگل پن” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ آبادی جیسے سنجیدہ مسئلے پر سائنسی اور آئینی نقطۂ نظر اختیار کیا جانا چاہیے۔

تلگو اور ہندی میڈیا میں بھی نونیت رانا کے بیان پر شدید تنقید دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بغیر مستند اعداد و شمار کے آبادی کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا نہ صرف غلط ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرناک بھی ہے۔

تاہم، نونیت رانا کے بیان پر بی جے پی کی مرکزی قیادت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں