حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء طویل علالت کے بعد منگل کی صبح 6 بجے ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں انتقال کر گئیں۔ وہ 80 برس کی تھیں۔ بی این پی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وہ فجر کی نماز کے فوراً بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا، “بی این پی کی چیئرپرسن، سابق وزیرِ اعظم اور قومی رہنما بیگم خالدہ ضیاء آج صبح 6 بجے انتقال کر گئیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور تمام لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کریں۔”
بیگم خالدہ ضیاء گزشتہ 36 دنوں سے ایورکیئر اسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔ انہیں 23 نومبر کو دل اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیشی روزنامہ دی ڈیلی اسٹار کے مطابق وہ نمونیا میں بھی مبتلا تھیں۔ وہ طویل عرصے سے جگر کے امراض (سروسس)، گٹھیا، ذیابیطس اور گردوں، پھیپھڑوں، دل اور آنکھوں سے متعلق دائمی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ ان کا علاج بنگلہ دیش، برطانیہ، امریکہ، چین اور آسٹریلیا کے ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں جاری تھا۔
حال ہی میں انہیں بیرونِ ملک علاج کے لیے لے جانے کی کوشش کی گئی، تاہم کمزور صحت کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ بیگم خالدہ ضیاء اپنے بڑے صاحبزادے طارق رحمان، بہو زبیدہ رحمان اور پوتی زائمہ رحمان کو سوگوار چھوڑ گئیں۔ طارق رحمان 17 برس کی جلاوطنی کے بعد 25 دسمبر کو بنگلہ دیش واپس آئے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے عارفات رحمان کوکو چند برس قبل ملائیشیا میں انتقال کر گئے تھے۔
بیگم خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں اور تین مرتبہ اس منصب پر فائز رہیں۔ انہوں نے 1991 کے عام انتخابات میں عوامی ووٹ کے ذریعہ اقتدار سنبھالا اور صدارتی نظام کے بجائے پارلیمانی نظام نافذ کیا، جس کے تحت اصل اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس رہے۔ انہوں نے آزاد و منصفانہ انتخابات کے لیے نگراں حکومت (کیئر ٹیکر گورنمنٹ) کا نظام متعارف کرایا، غیر ملکی سرمایہ کاری پر عائد پابندیاں اٹھائیں اور ابتدائی تعلیم کو لازمی اور مفت قرار دیا۔
بیگم خالدہ ضیاء 1945 میں جلپائی گوڑی، برطانوی ہندوستان (موجودہ مغربی بنگال) میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) منتقل ہو گیا۔ ان کے والد اسکندر مزمدار ایک تاجر تھے جبکہ والدہ طیّبہ مزمدار گھریلو خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں “پُتل” کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ انہوں نے دیناج پور مشنری اسکول اور بعد ازاں دیناج پور گرلز اسکول سے تعلیم حاصل کی۔
1960 میں ان کی شادی اُس وقت کے پاکستانی فوجی افسر کیپٹن ضیاءالرحمان سے ہوئی۔ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران ضیاءالرحمان نے بغاوت کر کے بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ 1981 میں ان کے قتل کے بعد بی این پی شدید بحران کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں سیاست سے دور رہنے والی خالدہ ضیاء نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1984 میں پارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔
انہوں نے شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کے ساتھ مل کر فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کے خلاف جمہوری تحریک کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں 1990 میں فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید سیاسی رقابت شروع ہوئی، جس کے باعث انہیں “بیٹلنگ بیگمز” کہا جانے لگا۔
1991 میں بی این پی کی کامیابی کے بعد وہ پہلی بار وزیرِ اعظم بنیں۔ 2001 میں وہ تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز ہوئیں، تاہم ان کے دور میں بدعنوانی کے الزامات، سیاسی کشیدگی اور شدت پسندی کے واقعات سامنے آئے۔ 2006 میں سیاسی بحران کے بعد فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت قائم ہوئی، جس کے دوران خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ دونوں کو بدعنوانی کے الزامات میں قید کیا گیا۔
2018 میں انہیں ایک بدعنوانی مقدمہ میں سزا سنائی گئی، جسے انہوں نے سیاسی انتقام قرار دیا۔ 2020 میں انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نظر بندی میں منتقل کیا گیا اور اگست 2024 میں رہائی ملی۔ 2025 کے اوائل میں سپریم کورٹ نے انہیں بدعنوانی کے مقدمے میں بری کر دیا تھا۔
بیگم خالدہ ضیاء کی وفات بنگلہ دیشی سیاست کے ایک عہد کے خاتمہ کے مترادف ہے۔


