حیدرآباد (دکن فائلز) نیویارک سٹی کی سیاسی تاریخ میں یکم جنوری کو ایک یادگار اور علامتی باب کا اضافہ ہوا، جب ظہران ممدانی نے بطور میئر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی نژاد اور پہلے افریقہ میں پیدا ہونے والے میئر بن گئے ہیں۔
حلف برداری کے دوران انہوں نے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر عہدہ سنبھالا، جو شہر کی متنوع آبادی اور مذہبی آزادی کی ایک مضبوط علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ نجی حلف برداری کی تقریب مین ہیٹن کے تاریخی مگر غیر فعال اولڈ سٹی ہال سب وے اسٹیشن میں منعقد ہوئی، جہاں نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے ان سے حلف لیا۔ اس موقع پر ممدانی کی اہلیہ راما دواجی بھی موجود تھیں۔
ظہران ممدانی نے اس موقع پر اپنے دادا کا قرآنِ پاک استعمال کیا، جب کہ ایک اور قرآنی نسخہ معروف سیاہ فام دانشور اور مؤرخ آرٹورو شومبرگ سے منسوب تھا، جو نیویارک پبلک لائبریری کی جانب سے فراہم کیا گیا۔ عوامی تقریب میں ممدانی نے اپنے دادا اور دادی دونوں کے قرآن پاک استعمال کیے، جسے خاندانی ورثے اور شہری تاریخ کے امتزاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نیویارک پبلک لائبریری میں مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی مطالعات کی کیوریٹر حبا عابد کے مطابق، اس تقریب کے لیے قرآن کے انتخاب میں ممدانی کی سینیئر مشیر زارا رحیم اور اہلیہ نے بھی تعاون کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ ایمان، شناخت اور نیویارک کی تاریخ کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔
امریکی قانون کے تحت حلف اٹھانے کے لیے کسی مذہبی کتاب کا استعمال لازم نہیں، تاہم روایتاً بائبل استعمال کی جاتی رہی ہے۔ ممدانی کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ انتہائی اہم تھا کہ وہ ایسا قرآن استعمال کریں جو ان کے خاندان اور نیویارک کی تاریخی شخصیات سے جڑا ہو۔
زارا رحیم کے مطابق یہ اقدام نیویارک کی عوامی زندگی میں مسلمانوں کی طویل عرصے سے نظر انداز کی گئی نمائندگی کو تسلیم کرنے کی کوشش ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے مہنگائی میں کمی کو مرکزی نعرہ بنایا۔ ان کے وعدوں میں بچوں کی مفت دیکھ بھال، مفت بس سروس، دس لاکھ گھروں کے کرائے منجمد کرنا اور شہری گروسری اسٹورز کا پائلٹ منصوبہ شامل ہے۔


