حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ کے موقر اخبار نیویارک ٹائمز نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے قیام سے لے کر اس کے موجودہ غیر معمولی اثر و رسوخ تک کے سفر پر ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ مضمون، جس کا عنوان “From the Shadows to Power: How the Hindu Right Reshaped India” ہے، 29 دسمبر 2025 کو شائع ہوا اور اسے صحافی مجیب مشعل اور ہری کمار نے تحریر کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، 1925 میں قائم ہونے والی آر ایس ایس ایک صدی تک بظاہر ایک پس منظر میں رہنے والی تنظیم رہی، جس کے کارکن صبح سویرے شاکھاؤں میں جسمانی مشقیں اور نظم و ضبط کی تربیت حاصل کرتے تھے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنظیم محض ایک ثقافتی ادارہ نہیں رہی بلکہ سیکولر ہندوستان کی سب سے طاقتور نظریاتی اور سیاسی قوت میں تبدیل ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک آر ایس ایس کو حاشیہ پر رکھا گیا، خاص طور پر مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد جب اس پر پابندی عائد ہوئی اور اسے شدت پسند نظریات سے جوڑا گیا۔ اس کے باوجود تنظیم نے تنظیم سازی اور ادارہ جاتی حکمتِ عملی کے ذریعہ خود کو دوبارہ منظم کیا اور بالآخر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ذریعہ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کا بنیادی ہدف انتخابات نہیں بلکہ قوم کی نئی تعریف ہے۔ ’Hindu-first‘ قومیت کا تصور بھارت کے آئینی سیکولر ڈھانچے سے براہِ راست متصادم ہے۔ اس بیانیے میں اقلیتیں برابر کے شہری نہیں بلکہ ایسی کمیونٹیز ہیں جن سے ثقافتی وفاداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہی سوچ مذہبی تشدد، سماجی تقسیم اور نفرت انگیز سیاست کو اخلاقی جواز فراہم کرتی ہے۔
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا عروج اسی سفر کی علامت ہے۔ مودی، جو نوجوانی میں آر ایس ایس کے کل وقتی کارکن (پرچارک) رہے، آج سیکولر ہندوستان کے سب سے طاقتور رہنما ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مودی دورِ حکومت میں پہلی بار آر ایس ایس کا نظریہ کھل کر ریاستی پالیسیوں میں جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ اگست 2025 کی یومِ آزادی کی تقریر میں مودی نے آر ایس ایس کو ’’ایک عظیم دریا‘‘ قرار دیا، جس کی شاخیں ہندوستانی زندگی کے ہر شعبہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔
مضمون کے مطابق آر ایس ایس کا اصل ہدف محض انتخابات جیتنا نہیں بلکہ ہندوستان کی قومی شناخت کو ازسرِنو متعین کرنا ہے۔ اس نظریے کے تحت ہندوستان کو بنیادی طور پر ایک ہندو تہذیبی ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مذہبی اقلیتوں کو مساوی شہریوں کے بجائے اکثریتی ثقافت میں ضم ہونے والی آبادی سمجھا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے حکومت، عدلیہ، پولیس، بیوروکریسی، تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ افراد کے ذریعے گہری جڑیں قائم کر لی ہیں۔ پیرس کے ادارے Sciences Po کے محققین کے مطابق کم از کم 2500 تنظیمیں کسی نہ کسی شکل میں آر ایس ایس سے منسلک ہیں، جو ایک منظم اور مربوط نیٹ ورک کی صورت میں کام کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں مذہبی بنیاد پر بڑھتی ہوئی تقسیم اور تشدد پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ گائے کے نام پر ہلاکتیں، بین المذاہب شادیوں پر حملے، مسلم بستیوں میں اشتعال انگیز جلوس اور بلڈوزر سیاست محض انتظامی اقدامات نہیں بلکہ ایک نظریاتی ماحول کی پیداوار ہیں، جہاں ریاست خاموش تماشائی نہیں بلکہ اکثر بالواسطہ شریک نظر آتی ہے۔ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دور میں مسلمانوں کے مکانات پر بلڈوزر کارروائیاں بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ آر ایس ایس کی قیادت بیک وقت دو زبانیں بولتی نظر آتی ہے۔ ایک طرف موہن بھاگوت کی نرم اور مصالحت آمیز گفتگو، دوسری طرف زمینی سطح پر جاری انتہاپسند سرگرمیاں۔ نیویارک ٹائمز اسے محض تضاد نہیں بلکہ دانستہ ابہام (doublespeak) قرار دیتا ہے، جو نظریے کو مرکزی دھارے میں قابلِ قبول بنائے رکھتے ہوئے شدت پسند عناصر کے لیے گنجائش چھوڑ دیتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کا نتیجہ ہے کہ آر ایس ایس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنی سوچ کو وقتی سیاست سے نکال کر ایک دیرپا قومی بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے، تاکہ اگر مستقبل میں اقتدار تبدیل بھی ہو جائے تو نظریاتی اثر قائم رہے۔
رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کی کامیابی کا راز اس کی انتخابی فتوحات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس نے سیاست کو نظریاتی تسلسل میں بدل دیا ہے۔ بھارت اب صرف ایک سیاسی موڑ پر نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور آئینی آزمائش سے گزر رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مودی کے بعد کون؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اپنے کثیر الثقافتی اور سیکولر تشخص کو اس نظریاتی دباؤ کے سامنے برقرار رکھ پائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو محض ایک خبر نہیں بلکہ آنے والے برسوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ بنا دیتا ہے۔


