کرناٹک کے بیلاری میں سیاسی تصادم: بینرز کے تنازع پر خونریز جھڑپ، کانگریس کارکن ہلاک، بی جے پی رکن اسمبلی جناردھن ریڈی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک کے جنوبی شہر بیلاری میں جمعرات کی رات سیاسی کشیدگی اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گئی جب کانگریس ایم ایل اے نارا بھارت ریڈی اور بی جے پی ایم ایل اے جناردھن ریڈی کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ضلعی انتظامیہ کو دفعہ 144 نافذ کرنی پڑی۔

ذرائع کے مطابق یہ تنازع جناردھن ریڈی کے گھر کے سامنے بینرز لگانے پر شروع ہوا، جو کانگریس ایم ایل اے بھارت ریڈی کے قریبی ساتھی ستیش ریڈی کی جانب سے نصب کیے جا رہے تھے۔ پہلے تلخ کلامی ہوئی، پھر معاملہ پتھراؤ اور فائرنگ تک جا پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران ایک کانگریس کارکن ہلاک جبکہ متعدد افراد، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، زخمی ہو گئے۔

کانگریس ایم ایل اے بھارت ریڈی نے الزام لگایا کہ کانگریس کارکن راج شیکھر کو بی جے پی حامیوں نے گولی مار کر ہلاک کیا۔ دوسری طرف بی جے پی ایم ایل اے جناردھن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ان کے قتل کی سازش رچی گئی اور جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے، ستیش ریڈی سے منسلک مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ انہوں نے میڈیا کے سامنے گولیوں کے خول بھی دکھائے۔

جناردھن ریڈی نے مزید الزام لگایا کہ والمیکی مجسمے کی تنصیب کی آڑ میں شہر کا امن خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ بیلاری کے والمیکی سرکل میں والمیکی مجسمہ نصب کیا جا چکا ہے اور اس کی نقاب کشائی ہفتہ، 3 جنوری 2026 کو ہونی ہے۔ اسی تقریب کے سلسلے میں شہر بھر میں بینرز لگائے جا رہے تھے۔

واقعہ کے بعد سیرگوپا روڈ پر ٹریفک بند کر دی گئی جبکہ اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی۔ بیلاری کے ڈپٹی کمشنر، انسپکٹر جنرل اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس کے مطابق بروس پیٹ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں جناردھن ریڈی سمیت 11 افراد کو دانستہ حملے کا ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں