’مسلم خواتین کی طرف اٹھنے والا ہاتھ توڑ دیں گے!‘ امتیاز جلیل کا نتیش کمار اور نام نہاد سیکولر جماعتوں پر سخت حملہ (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے جالنہ شہر میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سینئر رہنما اور سابق رکنِ پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے کہا کہ اگر کسی نے مسلم خواتین کو بری نیت سے چھونے کی جرأت کی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے۔ ان کا یہ بیان بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک خاتون کے چہرے سے حجاب ہٹانے کے واقعہ اور اس پر اتر پردیش کے ایک وزیر کے متنازع تبصرے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

امتیاز جلیل نے براہِ راست نتیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس طرح کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس نے پورے ملک میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے وزیر سنجے نشاد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جب ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگ اس طرح کی زبان استعمال کریں گے تو سماج میں نفرت اور عدم تحفظ ہی پھیلے گا”۔

جلسے سے خطاب میں انہوں نے نام نہاد سیکولر جماعتوں پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پارٹیاں مجلس کو فرقہ پرست قرار دیتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی پارٹیاں غنڈوں اور مجرم عناصر کو تحفظ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں، مگر مسلمانوں کے حق میں کھل کر کھڑے ہونے سے گھبراتی ہیں۔

امتیاز جلیل نے الزام لگایا کہ سیکولر جماعتیں نہیں چاہتیں کہ مسلمان سیاسی قیادت کے طور پر ابھریں اور انہیں مناسب نمائندگی ملے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے سماجی انصاف کے وزیر سنجے شرسات کی جانب سے مجلس کے انتخابی نشان ’پتنگ‘ سے متعلق بیان کا بھی مذاق اڑایا اور مکر سنکرانتی کے تہوار کا حوالہ دیتے ہوئے اس مطالبے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

مزاحیہ انداز میں انہوں نے شیوسینا اور بی جے پی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ایک ماہ تک “گھڑیاں” نہ پہنیں، جو ان کی مہایوتی اتحادی این سی پی کے ’گھڑی‘ نشان پر طنز تھا۔ امتیاز جلیل جالنہ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے مجلس کے 17 امیدواروں کے حق میں مہم چلا رہے ہیں، جہاں 15 جنوری کو ووٹنگ ہونی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں