حیدرآباد (دکن فائلز) تریپورہ کے دارالحکومت اگرتلہ میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک مسلم رکشہ والے پر بہیمانہ حملہ کر کے اسے قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق متاثرہ شخص، دیدار حسین، کو نامعلوم حملہ آور درندوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، آدھا ریت میں دفن کیا اور پھر اسے زندہ جلانے کی کوشش کی۔
دیدار حسین، جو اگرتلہ کے ابھیہ نگر علاقے کے رہائشی ہیں، نے بتایا کہ یکم جنوری کی شام تقریباً 6:30 بجے گنگائل نویدیتا کلب کے قریب چار سے پانچ نامعلوم غنڈوں نے ان کا راستہ روکا، بری طرح مارا پیٹا اور پھر انہیں ریت کے ڈھیر میں زبردستی دھکیل دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، حملہ آوروں نے انہیں آگ لگا کر قتل کرنے کی کوشش کی۔
دیدار حسین نے اپنی شکایت میں کہا کہ وہ شدید جسمانی اور ذہنی صدمے کا شکار ہو گیا اور اس کی جان صرف اس وقت بچی جب ان کی چیخ و پکار سن کر حملہ آور شدت پسند موقع سے فرار ہو گئے۔ دیدار حسین فی الحال زیر علاج ہیں۔
مقامی رہائشی حبیب الرحمان کے مطابق، حملہ آوروں نے پہلے دیدار حسین سے ان کا نام پوچھا، اور مسلمان ہونے کی تصدیق کے بعد بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر اقلیتوں پر ہونے والے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر حملہ کردیا۔ دیدار حسین نے حملے کو “سنگین، سفاک اور ناقابلِ معافی جرم” قرار دیا ہے۔
پولیس نے اس واقعہ پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جن میں دفعہ 109 (قتل کی کوشش)، دفعہ 115(2) (شدید زخمی کرنا)، اور دفعہ 326 (آگ لگا کر جان لینے کی کوشش) شامل ہیں۔ تاہم حملہ آور تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
اس واقعہ کے بعد اگرتلہ میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا، جہاں شہریوں نے احتجاجی مارچ نکال کر فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ایم ایل اے سدِیپ رائے برمن اور موتھا کے رہنما شاہ عالم نے بھی احتجاج کی قیادت کی۔
شاہ عالم نے کہا کہ “ایف آئی آر درج کرنے کے سوا پولیس نے اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی اور اقلیتوں سے متعلق معاملات میں یہی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے”۔


