حیدرآباد (دکن فائلز) آسام میں ایک 44 سالہ مسلم بیوہ، اہیدہ خاتون، کو غیر ملکی قرار دیے جانے کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ احیدہ خاتون نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں عدالت نے تاخیر کی بنیاد پر ان کی درخواست سننے سے انکار کر دیا تھا، حالانکہ ان کے والدین اور بہن بھائی بھارتی شہری ہیں۔
دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق، 12 ستمبر 2019 کو آسام کے فارنرز ٹریبونل نے احیدہ خاتون کو اس بنیاد پر غیر ملکی قرار دیا کہ وہ اپنے والدین اور دادا دادی سے تعلق ثابت نہیں کر سکیں۔ تاہم، ان کا مؤقف ہے کہ ٹریبونل نے اہم اور مستند دستاویزات کو نظرانداز کیا، جن میں مسلسل چار انتخابی فہرستیں، اسکول سرٹیفکیٹ، گاؤں بورا کا سرٹیفکیٹ اور والد کی جانب سے دی گئی زمین کا رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ شامل ہے۔
ٹریبونل کے فیصلے کے بعد احیدہ خاتون کو حراستی مرکز میں رکھا گیا۔ بعد ازاں، گوہاٹی ہائی کورٹ نے اگست 2025 میں ان کی عرضی محض تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی، جس کے بعد حکام نے انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا، جہاں وہ اب مقیم ہیں۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں احیدہ خاتون نے نہ صرف ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے بلکہ ٹریبونل کے حکم کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ پیر کے روز چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالا باگچی پر مشتمل بنچ نے آسام حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ اس معاملے میں ان کے بھائی، جو گاؤں میں سول پولیس افسر ہیں، نے بھی حلف نامہ داخل کر کے دستاویزات کی صداقت کی تصدیق کی ہے۔


