حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے مصروف علاقہ نامپلی میں ہفتہ کے روز ایک بڑے آتشزدگی کے واقعہ نے سنسنی پھیلا دی۔ نامپلی میں واقع بچا کرسٹل / بچاہ کیسل فرنیچر شوروم میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جو دیکھتے ہی دیکھتے چار منزلہ عمارت میں پھیل گئی۔ آگ گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی اور شدید شعلوں و گھنے دھوئیں کے باعث پوری عمارت لپیٹ میں آ گئی۔
آگ لگنے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی مکانات کو خالی کروایا گیا۔ فائر بریگیڈ کی کم از کم چار فائر انجنیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ شدید دھوئیں اور تیز شعلوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعہ کے وقت عمارت میں ایک خاتون، اس کے دو کمسن بچے اور مزید تین افراد موجود تھے، جن کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عمارت کے باہر والدین کی اپنے بچوں کے لیے بے بسی کے عالم میں فریاد اور گریہ کے مناظر نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران فائر ڈیپارٹمنٹ نے ہیوی کرینوں کے ساتھ ساتھ ایک روبوٹ کو بھی عمارت کے اندر بھیجا تاکہ گھنے دھوئیں کے درمیان حالات کا جائزہ لیا جا سکے اور ممکنہ طور پر پھنسے افراد کو بچایا جا سکے۔ ایمبولینسوں کو بھی جائے وقوعہ پر الرٹ رکھا گیا ہے۔
حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار خود موقع پر پہنچ گئے اور آگ بجھانے و ریسکیو کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پولیس، HYDRAA اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر راحتی اقدامات انجام دے رہی ہیں۔ آگ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اطراف سے آتش گیر اشیاء ہٹائی جا رہی ہیں۔
تاحال کسی جانی نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی تفصیلات، ممکنہ ہلاکتوں اور آگ لگنے کی وجوہات سامنے آ سکیں گی۔


