حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش میں ضلع مرادآباد کے بلاری قصبے میں پانچ مسلم طالبات کے خلاف ایک ہندو طالبہ کو مبینہ طور پر زبردستی برقعہ پہنانے اور اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے الزامات کے بعد معاملہ سیاسی و سماجی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ پولیس نے طالبہ کے بھائی کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم واقعہ کے کئی پہلوؤں پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
وہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی لوگوں نے معاملہ پر غیرضروری سیاست کرنے اور معمولی واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوششوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکیاں آپس میں سہیلیاں ہیں اور تمام لڑکیاں کم عمر ہیں۔ اگر ان کے درمیان دوستانہ ماحول میں کچھ ہوتا ہے تو اسے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مقامی لوگوں نے مسلم لڑکیوں پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق، متاثرہ طالبہ اور ملزمہ طالبات کی عمریں 16 سے 18 برس کے درمیان ہیں۔ سبھی بارہویں جماعت کی طالبات ہیں، ایک ہی اسکول اور کوچنگ سینٹر میں پڑھتی ہیں اور ایک ہی محلے میں رہتی ہیں۔ شکایت کے مطابق 20 دسمبر کو کوچنگ کلاس سے واپسی کے دوران طالبہ کو گھیر کر اس کے بیگ سے برقعہ نکالا گیا اور اسے پہننے پر زور دیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ برقعہ پہننے سے وہ زیادہ خوبصورت لگے گی اور اس کی قسمت بدل جائے گی، ساتھ ہی اسلام قبول کرنے کی بات بھی کہی گئی۔
قابلِ غور امر یہ ہے کہ واقعہ 20 دسمبر کا بتایا جا رہا ہے، لیکن ایف آئی آر 22 جنوری کو درج کرائی گئی۔ اس تاخیر کو لے کر بھی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ شکایت میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبہ کو پہلے ذہنی طور پر متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، حتیٰ کہ ایک ریسٹورنٹ میں کھانے میں کچھ ملانے کا الزام بھی لگایا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
جمعہ کے روز مبینہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد معاملے نے مزید توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد بعض ہندو تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے اسے مذہبی تبدیلی سے جوڑا اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایس پی دیہی کنور آکاش سنگھ نے بتایا کہ ہندو طالبہ کے بھائی کی شکایت پر مذہبی تبدیلی ممانعت قانون کی دفعات 3 اور 5(1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، “معاملہ تفتیش کے تحت ہے۔ شواہد کی بنیاد پر ہی آگے کی کارروائی کی جائے گی۔”
تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ میں شامل تمام فریق کم عمر طالبات ہیں، جو ایک ہی تعلیمی اور سماجی ماحول سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے الزامات کی غیر جانبدارانہ اور محتاط جانچ نہایت ضروری ہے۔ بعض حلقوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے حساس معاملات کو مذہبی رنگ دے کر سماجی کشیدگی بڑھائی جا سکتی ہے۔ فی الحال پولیس تفتیش جاری ہے۔


