حیدرآباد نامپلی خوفناک آتشزدگی: 20 گھنٹے بعد دو بچوں سمیت پانچ لاشیں برآمد، ریسکیو آپریشن مکمل

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے نامپلی علاقہ میں واقع ایک فرنیچر اسٹور/گودام میں لگنے والی ہولناک آگ کے واقعہ میں مرنے والوں والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ آگ لگنے کے تقریباً 20 سے 22 گھنٹے بعد اتوار (25 جنوری 2026) کو دکان کے فرسٹ لیول سیلر سے دو بچوں سمیت پانچ افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ یہ آگ ہفتہ کی دوپہر اچانک بھڑک اٹھی تھی، جس کے بعد سے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری تھا۔

فائر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت سات سالہ اکھیل اور 11 سالہ پرنیتھ (دونوں نامپلی کے رہائشی)، 60 سالہ بی بی اماں (کرناٹک کی رہائشی اور اسٹور کے چوکیدار سمیر کی والدہ)، 31 سالہ محمد امتیاز (نامپلی کے رہائشی) اور 30 سالہ سید حبیب (آٹو ڈرائیور، شاستری پورم، راجندرنگر کے رہائشی) کے طور پر کی گئی ہے۔

تلنگانہ فائر ڈی جی وکرم سنگھ مان نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے تمام پانچ لاشیں برآمد کر کے عثمانیہ اسپتال منتقل کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کے مالک کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق فائر فائٹنگ ٹیموں نے پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر مسلسل آپریشن جاری رکھا، جن میں حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ اثاثہ جات مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن ایجنسی، ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن شامل تھیں۔

ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ واقعے کے تقریباً 90 فیصد حصے پر اتوار کی صبح تک قابو پا لیا گیا تھا، تاہم سرچ اور ریسکیو آپریشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جاری رکھا گیا کہ کہیں کوئی اور شخص عمارت میں پھنس نہ گیا ہو۔

واضح رہے کہ آگ لگنے کے واقعہ کے بعد صدر مجلس اسدالدین اویسی کی ہدایت پر ایم ایل سی رحمت بیگ فوری مقام واقعہ پر پہنچ گئے تھے اور ریسکیو آپریشن ختم ہونے تک یہیں رہے۔ اسی طرح کمشنر پولیس سنجنار بھی موقع پر پہنچ کر خود پورے آپریشن کی قیادت کی۔

حکام کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نقصان کی مکمل تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔ تحقیقات جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں