’میرے بیٹے کو بچا لیجیے‘: میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر پھنسے حیدرآبادی نوجوان میر سجاد علی کے لیے ماں کی وزیراعظم مودی، اویسی اور جے شنکر سے فریاد

حیدرآباد (دکن فائلز) میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ کے جال میں پھنسے حیدرآباد کے نوجوان میر سجاد علی کی بازیابی کے لیے ان کی والدہ نازیہ فاطمہ نے وزیراعظم نریندر مودی، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی اور وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے دل سوز اپیل کی ہے۔

نازیہ فاطمہ نے میڈیا کو بتایا کہ میر سجاد علی تقریباً چھ ماہ قبل بیرونِ ملک روزگار کی تلاش میں گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ ابتدا میں ان کا رابطہ رہا، مگر ڈیڑھ ماہ بعد اچانک رابطہ منقطع ہو گیا۔ دو ماہ بعد ایک مختصر فون کال میں سجاد نے بتایا کہ انہیں تھائی لینڈ نوکری کے ویزے کا لالچ دے کر بلایا گیا، بعد ازاں آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر میانمار-تھائی لینڈ سرحدی علاقے میں لے جایا گیا اور زبردستی کام کروایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے بتایا تھا کہ فوجی کارروائی کے بعد اس کا فون، بیگ اور دیگر سامان چھین لیا گیا، اور اس کے بعد سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔ نازیہ فاطمہ نے روتے ہوئے کہا، “میں ایک ماں ہوں، میرا بیٹا واپس چاہیے۔ میں وزیراعظم، اویسی صاحب اور وزیر خارجہ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں کہ میرے بیٹے کو بچا لیا جائے۔”

یہ اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسدالدین اویسی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ اویسی نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہیں ایک نہایت تشویشناک پیغام موصول ہوا ہے، جس کے مطابق کم از کم 16 ہندوستانی شہریوں کو، جن میں حیدرآباد کے تین نوجوان بھی شامل ہیں، تھائی لینڈ میں نوکری کا جھانسہ دے کر میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر لے جایا گیا اور انہیں غلامی پر مجبور کیا گیا۔

اویسی کے مطابق ان افراد سے روزانہ 18 سے 20 گھنٹے زبردستی کام لیا جا رہا ہے، انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے پاسپورٹ، فون اور طبی سہولتیں تک چھین لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میر سجاد علی عثمان نگر، حیدرآباد کے رہائشی ہیں اور اس وقت دو دیگر نوجوانوں کے ساتھ قید ہیں، جن میں ایک مولا علی اور دوسرا بنجارہ ہلز کا رہنے والا ہے۔

بی جے پی رہنما این وی سبھاش نے تصدیق کی کہ کم از کم 16 ہندوستانی اس جال میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں چار سے پانچ کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ یہ معاملہ اب قومی سطح پر تشویش کا باعث بن چکا ہے، اور متاثرہ خاندانوں کو حکومت ہند کی فوری اور مؤثر مداخلت کا شدت سے انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں