حماس کے سینئر رہنما اور ممتاز فلسطینی مفکر ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح انتقال کر گئے

حیدرآباد (دکن فائلز) حماس کے سینئر رہنما، سیاسی بیورو کے رکن اور ممتاز فلسطینی مفکر و ادیب ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح اتوار کی صبح انتقال کر گئے۔ وہ طویل عرصے سے سیاسی، تعلیمی، فکری اور ثقافتی میدان میں سرگرمِ عمل رہے اور فلسطینی قومی جدوجہد میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کی وفات پر فلسطینی عوام، عرب و اسلامی دنیا میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح فلسطینی حکومت کی دسویں کابینہ میں وزیرِ ثقافت اور وزیرِ امورِ اسیران کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ اپنے دورِ وزارت میں انہوں نے قابض اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کے مسئلے کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مسلسل اور مؤثر جدوجہد کی، جس کے باعث وہ اسیران کے مقدمے کی ایک مضبوط آواز سمجھے جاتے تھے۔

مرحوم رہنما نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر تدریسی خدمات بھی انجام دیں اور فلسطینی ثقافتی زندگی میں گہرا اثر چھوڑا۔ وہ ایک معروف ادیب، شاعر اور مصنف تھے، جن کی تحریروں اور شعری مجموعوں میں قومی جدوجہد، سماجی مسائل اور انسانی احساسات نمایاں طور پر جھلکتے تھے۔

ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح سنہ 1948ء میں عسقلان کے شمال میں واقع گاؤں السوافير الشرقیہ میں پیدا ہوئے، جو بعد ازاں اسرائیلی قبضہ کے نتیجے میں تباہ ہو گیا۔ انہوں نے رفح کے مہاجر کیمپ میں پرورش پائی۔ تعلیم کا آغاز راملہ کمیونٹی کالج سے کیا، بعد ازاں النجاح نیشنل یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1995ء میں سوڈان کی ام درمان یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔

مرحوم اسیران، مزاحمت اور فلسطینی حقوق کے حوالے سے اپنے دوٹوک اور جرات مندانہ مؤقف کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے فکری و سیاسی مباحث میں فعال کردار ادا کیا اور شدید حالات کے باوجود فلسطینی قومی منصوبے کے دفاع میں ثابت قدم رہے۔

حماس نے اپنے تعزیتی بیان میں ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک عظیم قومی رہنما، اسلامی مفکر، ادیب اور مزاحمتی اکیڈمک شخصیت قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مرحوم کی پوری زندگی عطا، قربانی اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے دفاع سے عبارت تھی۔

حماس نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ اور پوری فلسطینی قوم کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون۔

اپنا تبصرہ بھیجیں