حیدرآباد (دکن فائلز) دبئی نے عالمی سطح پر ایک اور منفرد اعزاز اپنے نام کرتے ہوئے دنیا کی پہلی ’’گولڈ اسٹریٹ‘‘ (سونے کی سڑک) تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تاریخی منصوبے کا حصہ بننے والا دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ باضابطہ طور پر افتتاح کے بعد عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
دبئی حکومت کے مطابق گولڈ ڈسٹرکٹ ایک نیا سیاحتی اور تجارتی مرکز ہوگا جہاں سونے اور زیورات سے وابستہ مکمل ویلیو چین کو ایک ہی مقام پر مجتمع کیا جا رہا ہے۔ منصوبے اور ڈیزائن کی تفصیلات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی جبکہ دنیا کی پہلی گولڈ اسٹریٹ اسی ڈسٹرکٹ کا مرکزی اور نمایاں حصہ ہوگی۔
دبئی کے معروف رئیل اسٹیٹ ڈیولپر اتھرا دبئی (Ithra Dubai) نے اعلان کیا ہے کہ یہ گولڈ اسٹریٹ مکمل طور پر سنہری تھیم اور منفرد ڈیزائن پر مشتمل ہوگی، جس کا مقصد دنیا بھر سے آنے والے خریداروں، سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو ایک یادگار تجربہ فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق گولڈ ڈسٹرکٹ کو دبئی کا ’’ہوم آف گولڈ‘‘ قرار دیا گیا ہے، جہاں ریٹیل فروخت، بلین ٹریڈنگ، ہول سیل کاروبار اور سرمایہ کاری سے متعلق تمام سرگرمیاں ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں گی۔ اس ڈسٹرکٹ میں ایک ہزار سے زائد ریٹیلرز شامل ہوں گے جو سونے، زیورات، پرفیوم، کاسمیٹکس اور لائف اسٹائل مصنوعات سے وابستہ ہوں گے۔
جواہرا جیولری، ملابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز، الرمیزان اور تنشک جیولری جیسے معروف برانڈز پہلے ہی یہاں اپنی موجودگی درج کرا چکے ہیں جبکہ جویالککس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا سب سے بڑا فلیگ شپ اسٹور قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ سونا دبئی کی شان، تجارتی ورثے اور عالمی شناخت کی علامت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2024–2025 کے دوران متحدہ عرب امارات نے تقریباً 53.41 ارب ڈالر مالیت کے سونے کی تجارت کی، جس کے بعد ملک دنیا کی دوسری سب سے بڑی فزیکل گولڈ ٹریڈنگ ڈیسٹینیشن بن چکا ہے۔
گولڈ ڈسٹرکٹ نے سال 2025 میں 147 سے زائد قومیتوں کے خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کیا جو اس منصوبے کی عالمی اہمیت کا ثبوت ہے۔


