جنگ کے بادل گہرے! امریکہ کی ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی، بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ، آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی مشقوں کا اعلان

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک طاقتور امریکی بحری بیڑا پوری قوت، جوش اور واضح مقصد کے ساتھ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ بحری بیڑا وینزویلا کی جانب بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے، جس کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر یہ بیڑا طاقت اور تشدد کے ذریعہ اپنے مشن کو فوری طور پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو پہلے بھی معاہدہ کرنے کا موقع دیا گیا تھا، لیکن انکار کے بعد ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے دوران ایران کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے اب بھی معاہدہ نہ کیا تو اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور جوہری ہتھیاروں سے پاک، منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گا جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے فضائی حدود سے متعلق نوٹم (NOTAM) بھی جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 29 جنوری تک آبنائے ہرمز کے اطراف 25 ہزار فٹ سے نیچے پروازیں نہ کی جائیں۔ مشقیں 9 کلومیٹر کے دائرے میں ہوں گی۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ ایرانی فوجی قیادت نے کہا کہ امریکی صدر صرف بیانات دیتے ہیں، اصل فیصلہ جنگ کے میدان میں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں