فلسطین: رملہ کے اسکول میں خون کی ہولی! اسرائیلی درندگی میں معصوم طالب علم کی شہادت نے انسانیت کو جھنجھوڑ دیا

حیدرآباد (دکن فائلز) فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقے رملہ کے قریب واقع المغیز سیکنڈری اسکول میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا ایک ہولناک سانحہ بن کر سامنے آیا ہے۔ تازہ جاری ہونے والی ویڈیو فوٹیج میں وہ دل دہلا دینے والا لمحہ قید ہے جب مسلح اسرائیلی فوجیوں اور آبادکاروں نے اسکول کی حدود میں داخل ہو کر نہتے طلبہ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت اسکول میں معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری تھیں اور طلبہ ماہانہ امتحانات دے رہے تھے۔ اچانک فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھی، جب مسلح افراد اسکول کے احاطے میں داخل ہوئے اور کلاس رومز تک جا پہنچے۔ خوفزدہ طلبہ اپنی جان بچانے کے لیے زمین پر بیٹھ گئے، مگر سفاکی کی انتہا یہ تھی کہ حملہ آوروں نے معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہ کیا۔

اس بے رحمانہ حملے میں نویں جماعت کے صرف 14 سالہ طالب علم اویس حمدی النعسان کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا، جبکہ 32 سالہ جہاد مرزوق ابو نعیم بھی جان کی بازی ہار گئے۔ مزید تین افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

اوس النعسان کی شہادت نے ایک ایسے خاندان کو دوبارہ غم کے اندھیروں میں دھکیل دیا جو پہلے ہی ایک سانحہ جھیل چکا تھا۔ اس کی دادی رہاب النعسان کے مطابق، 2019 میں اس کے والد بھی آبادکاروں کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے تھے۔ اب چند برس بعد اسی خاندان کا ایک اور چراغ گل ہو گیا — ایک ایسا زخم جو شاید کبھی نہیں بھر سکے گا۔

اسکول انتظامیہ اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملہ آور نہ صرف مسلح تھے بلکہ ان میں سے کئی اسرائیلی ریزرو فوجی بھی تھے، جو بسا اوقات وردی میں یا بغیر وردی کے اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ حقیقت اس پورے واقعے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ نہتے شہریوں، خصوصاً بچوں، کے تحفظ کی ذمہ داری آخر کس کے پاس ہے؟

یہ واقعہ صرف ایک اسکول پر حملہ نہیں، بلکہ تعلیم، معصومیت اور انسانی اقدار پر حملہ ہے۔ کلاس روم، جو علم اور امید کی علامت ہوتے ہیں، اس دن خوف، چیخوں اور خون سے بھر گئے۔

دنیا بھر میں اس واقعے نے شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے اس کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مگر سوال اب بھی وہی ہے: کہ کیا معصوم بچوں کا خون کبھی انصاف پا سکے گا، یا یہ بھی تاریخ کے اندھیروں میں ایک اور بے آواز چیخ بن کر رہ جائے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں