ممتاز عالمِ دین مولانا قمر عثمانیؒ کا انتقال، علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر

انا للہ وانا الیہ راجعون
حیدرآباد (دکن فائلز) برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، محدثِ کبیر اور دارالعلوم وقف دیوبند کے جلیل القدر استاذِ حدیث، استاذُ الاساتذہ حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب رحمہ اللہ طویل علالت کے بعد اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی جانب کوچ کر گئے۔ ان کی رحلت کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حضرت مولانا قمر عثمانیؒ، شیخ الاسلام کے نامور شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور علمِ حدیث میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علمِ حدیث کی تدریس اور ہزاروں طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں صرف کی۔ دارالعلوم وقف دیوبند میں بطور استاذ حدیث آپ کی خدمات نہایت نمایاں اور قابلِ قدر رہیں۔

آپ کی شخصیت علم، تقویٰ، سادگی اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ طلبہ اور اہلِ علم کے نزدیک آپ نہایت شفیق استاد اور بلند پایہ رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ کے شاگرد ملک و بیرونِ ملک مختلف علمی و دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو آپ کے فیضِ علمی کا روشن ثبوت ہیں۔

اہلِ خانہ اور متعلقین کے مطابق حضرتؒ کافی عرصے سے علیل تھے، تاہم اس دوران بھی انہوں نے صبر و استقامت کی اعلیٰ مثال قائم رکھی۔ ان کی وفات کو علمی دنیا کے لیے ایک عظیم خسارہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی تلافی ممکن نظر نہیں آتی۔

نمازِ جنازہ کا اعلان
اطلاعات کے مطابق حضرت مولانا قمر عثمانیؒ کا جنازہ آج دوپہر سوا دو بجے ان کے گھر سے اٹھایا جائے گا، جبکہ نمازِ جنازہ پونے تین بجے بعد نمازِ ظہر دارالعلوم دیوبند کے احاطے میں ادا کی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، انہیں اعلیٰ علیین میں مقامِ کریم عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں