حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں شدید گرمی اور لو نے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں صرف 24 گھنٹوں کے دوران ہیٹ اسٹروک اور شدید دھوپ کے باعث 22 افراد کی موت کی اطلاع ہے۔ مرنے والوں میں بزرگ افراد، کسان، زرعی مزدور، طلبہ اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے لوگ شامل ہیں۔
سب سے تشویشناک صورتحال سابق ورنگل خطہ میں دیکھی گئی جہاں ایک ہی دن میں 9 افراد کی موت کی اطلاع ملی۔ محبوب آباد، ہنمکنڈہ، بھوپال پلی، ملوگو، سوریاپیٹ، نلگنڈہ، یادادری بھونگیر، منچریال، جوگولامبا گدوال، میدک، جگتیال، رام گنڈم، کریم نگر اور کھمم اضلاع سے بھی لو لگنے سے اموات کی خبریں سامنے آئیں۔
شدید گرمی کا سب سے زیادہ اثر ان افراد پر پڑ رہا ہے جو روزگار کے لیے دوپہر کی تیز دھوپ میں باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، زیادہ پانی پئیں، سر ڈھانپ کر رکھیں اور بچوں و بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔
دوسری جانب آندھرا پردیش بھی شدید ہیٹ ویو کی زد میں ہے، جہاں یکم مارچ سے 19 مئی تک 325 مشتبہ ہیٹ اسٹروک کیس رپورٹ ہوئے، جبکہ صرف مئی میں 96 کیس سامنے آئے۔ پالناڈو ضلع کے پیڈوگورالا میں درجہ حرارت 48.1 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ حکام نے لوگوں کو صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔


