ایران جنگ بندی کے قریب؟ ٹرمپ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر دنیا کی نظریں، حتمی فیصلہ مؤخر

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کو توسیع دینے سے متعلق ممکنہ معاہدے پر عالمی توجہ مرکوز ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس میں ہونے والا اہم اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا تھا جہاں ایران کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی معاہدے، آبنائے ہرمز کی بحالی، جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی جوہری پروگرام کے معاملات پر غور کیا گیا۔

ٹرمپ نے اجلاس سے قبل کہا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنا ہوگی، سمندری بارودی سرنگیں ہٹانی ہوں گی اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ معاہدے کی صورت میں ایران پر عائد بعض پابندیوں اور بحری ناکہ بندی میں نرمی کی جا سکتی ہے۔

تاہم اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی کوئی حتمی منظوری نہیں دی اور مزید مشاورت جاری ہے۔ امریکی حکام کے مطابق معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب وہ امریکی ’’سرخ خطوط‘‘ اور قومی سلامتی کے تقاضوں پر پورا اترے۔

دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے متعدد دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ایرانی وزارت خارجہ اور سرکاری ذرائع کے مطابق مذاکرات جاری ہیں اور جوہری پروگرام یا افزودہ یورینیم کے حوالے سے کسی حتمی شق پر اتفاق نہیں ہوا۔ تہران نے بعض امریکی بیانات کو ’’سچ اور جھوٹ کا مجموعہ‘‘ قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل جاتی ہے تو عالمی تیل منڈیوں کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے، کیونکہ یہ آبی گذرگاہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں