حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے الزام عائد کیا ہے کہ رمضان اور عیدین جیسے مذہبی مواقع کے قریب آتے ہی جان بوجھ کر اذان، نماز اور مسلمانوں سے متعلق معاملات کو تنازع کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ مسلمان کسی بھی صورت میں نماز ترک نہیں کریں گے۔
عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ہر سال رمضان یا بقرعید کے موقع پر کچھ عناصر اذان اور نماز کے خلاف مہم شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اذان اور نماز سے لوگوں کو کیا مسئلہ ہے؟ اویسی نے یاد دلایا کہ برطانوی دور میں مسلمانوں اور علمائے کرام نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اور ہزاروں علما نے قربانیاں پیش کی تھیں۔
انہوں نے مذہبی جلوسوں اور یاتراؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب کے تہواروں کے دوران بھی سڑکیں بند کی جاتی ہیں اور بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، لیکن اعتراض صرف نماز پر کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر سڑک پر نماز پڑھنا غلط ہے تو پھر یہی اصول تمام مذہبی تقریبات پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
اویسی نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے مذہبی آزادی کے حق کا دفاع کیا اور کہا کہ مسلمان اپنے آئینی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ اذان کی آواز اور لفظ ’’مسلمان‘‘ سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں، جبکہ دیگر مذاہب کے اجتماعات پر خاموش رہتے ہیں۔
اپنی تقریر میں اویسی نے نیٹ امتحان کے پرچہ لیک، سی بی ایس ای کے مسائل، بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور میڈیا کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مسائل اور عوامی مشکلات پر بحث کرنے کے بجائے ٹی وی چینلز مسلمانوں، اذان اور گوشت جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اویسی نے زور دے کر کہا کہ ’’یہ ملک ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا، ہم کہیں جانے والے نہیں ہیں۔‘‘


