حیدرآباد (دکن فائلز) نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-6) کی تازہ رپورٹ میں بھارت میں موٹاپے اور خون میں شوگر کی بلند سطح کے بڑھتے رجحان پر سنگین تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق ملک میں طرزِ زندگی سے جڑی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 15 سے 49 سال عمر کی خواتین میں موٹاپے یا زائد وزن کی شرح 24 فیصد سے بڑھ کر 30.7 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 22.9 فیصد سے بڑھ کر 27.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح خون میں شوگر کی بلند سطح یا ذیابیطس کی دوائیں استعمال کرنے والی خواتین کی شرح 13.5 فیصد سے بڑھ کر 17.8 فیصد ہو گئی، جبکہ مردوں میں یہ تناسب 15.6 فیصد سے بڑھ کر 20.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
سروے کے مطابق پڈوچیری، چندی گڑھ، دہلی، پنجاب اور تمل ناڈو میں خواتین میں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ مردوں میں انڈمان و نکوبار، پنجاب، کیرالہ، تمل ناڈو اور دہلی سرفہرست رہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فاسٹ فوڈ، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، طویل وقت تک بیٹھ کر کام کرنا، ذہنی دباؤ اور غیر متوازن طرزِ زندگی اس رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین نے متوازن غذا، روزانہ ورزش، شوگر اور چکنائی کے کم استعمال اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے پر زور دیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے طبی بحران پر قابو پایا جا سکے۔


