رضامندی سے جسم فروشی کا پیشہ اختیار کرنا جرم نہیں! سپریم کورٹ

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے جنسی کارکنوں (Sex Workers) کے حقوق سے متعلق ایک اہم معاملہ کی سماعت کے دوران واضح کیا ہے کہ رضامندی کے ساتھ جنسی پیشہ اختیار کرنے والے بالغ افراد کو مجرم نہیں سمجھا جا سکتا اور انہیں بھی آئین کے تحت عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے ذریعے زبردستی اس پیشہ میں دھکیلے گئے افراد اور اپنی مرضی سے اس شعبہ میں کام کرنے والے بالغ افراد کے درمیان واضح فرق ہے۔ عدالت نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ کارروائی کے دوران اس فرق کو مدنظر رکھا جائے۔

عدالت کے مطابق اگر کوئی بالغ شخص اپنی رضامندی سے جنسی پیشہ اختیار کرتا ہے تو صرف اسی بنیاد پر اس کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ہر شہری کو باوقار زندگی کا حق حاصل ہے اور یہ حق جنسی کارکنوں کو بھی حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے میڈیا کو بھی متنبہ کیا کہ جنسی کارکنوں کی تصاویر، ویڈیوز یا شناخت ظاہر کرنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ عدالت نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ جنسی کارکنوں کو فلاحی اسکیموں، شناختی دستاویزات اور قانونی تحفظ تک مساوی رسائی فراہم کی جائے۔

عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ انسانی اسمگلنگ، زبردستی جسم فروشی اور استحصال کے خلاف سخت کارروائی جاری رہنی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے ان مشاہدات کو جنسی کارکنوں کے انسانی حقوق اور قانونی تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں