حیدرآباد (دکن فائلز) قابض اسرائیلی افواج نے جمعہ کے روز تاریخی مسجد ابراہیمی (حرم ابراہیمی شریف) کو عام نمازیوں کے لیے غیر معینہ مدت تک بند کر دیا اور وہاں تعینات محافظوں، خادموں، ملازمین اور نمازیوں کو زبردستی مسجد سے باہر نکال دیا۔
مسجد ابراہیمی کے قائم مقام ڈائریکٹر ہمام ابو مرخیہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے صبح کے وقت مسجد کو مکمل طور پر سیل کر دیا اور مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں، فوجی چوکیوں اور الیکٹرانک گیٹس کو بھی بند کر دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو مسجد کے تقدس پر حملہ اور مسلمانوں کے حقِ عبادت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے اپنے بیان میں کہا کہ مسجد ابراہیمی کی بندش آزادیِ عبادت پر براہ راست حملہ ہے اور یہ اقدام مسجد کی تاریخی و مذہبی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے بھی اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مقدسات کے خلاف ایک نیا جرم قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ مسجد ابراہیمی کی تالہ بندی فلسطینی عوام کے بنیادی مذہبی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد مقدس مقامات کی اسلامی شناخت کو نقصان پہنچانا ہے۔
حماس نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مقدسات کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیاں خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ تنظیم نے فلسطینی عوام، خصوصاً الخلیل کے باشندوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد ابراہیمی کے تحفظ اور اس کی اسلامی شناخت برقرار رکھنے کے لیے متحد رہیں۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مسجد ابراہیمی نہ صرف ایک اہم مذہبی مقام ہے بلکہ مسلمانوں کے تاریخی ورثے کی علامت بھی ہے، جس کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہے۔


