حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی ہائی کورٹ نے بین مذہبی شادی سے متعلق ایک پرانے معاملہ میں محمد قاسم کو 18 سال بعد بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد ایک ایسے شخص کو راحت ملی جس نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تقریباً دو دہائیوں تک قانونی جدوجہد کی۔
دہلی ہائی کورٹ نے محمد قاسم کو طویل قانونی جدوجہد کے بعد بری کیا؛ رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ معاملہ رضامندی سے تعلق اور سماجی و خاندانی دباؤ کے پس منظر میں دیکھا گیا۔
محمد قاسم پر 2004 میں ایک لڑکی کو اغوا کرنے اور زیادتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق معاملہ ایک بین مذہبی رشتہ اور شادی سے جڑا تھا۔ قاسم کا موقف تھا کہ لڑکی اپنی مرضی سے ان کے ساتھ گئی تھی اور دونوں نے رضامندی سے شادی کی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ نے شواہد اور بیانات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متاثرہ کے بیانات میں ایسے پہلو موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ سماجی اور خاندانی دباؤ سے متاثر ہوا۔
عدالتی فیصلہ کے بعد محمد قاسم کے لیے یہ صرف قانونی کامیابی نہیں بلکہ زندگی کے ایک بڑے بوجھ سے نجات بھی قرار دی جا رہی ہے۔ 18 سال تک ایک سنگین الزام کے ساتھ زندگی گزارنا، سماجی بدنامی، قانونی اخراجات اور ذہنی اذیت ایک غیر معمولی سزا سے کم نہیں تھی۔
یہ فیصلہ اس بحث کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ بین مذہبی رشتوں کے معاملات میں پولیس اور عدالتی نظام کو غیر جانبداری، حساسیت اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرنی چاہیے، تاکہ کسی بے گناہ شخص کی زندگی برسوں تک متاثر نہ ہو۔


