حیدرآباد (دکن فائلز) لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے دہلی میں آٹو رکشا ڈرائیورس سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے اور بڑھتی مہنگائی، پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کے معاملہ پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
راہل گاندھی نے دہلی کے بنگالی مارکیٹ علاقہ کے قریب آٹو ڈرائیورس کے ساتھ وقت گزارا، ان کے ساتھ کھانا کھایا اور ان کی روزمرہ مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس دوران ڈرائیورس نے بتایا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات اور کم ہوتی آمدنی نے ان کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کا محنت کش طبقہ سب سے زیادہ مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے، لیکن حکومت ان کی پریشانی سننے کے بجائے اعداد و شمار کے ذریعہ حقیقت چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آٹو ڈرائیورس کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔
اسی دوران راہل گاندھی نے NEET امتحان سے متاثر طلبہ اور ان کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کا اعتماد توڑ دیا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق لاکھوں طلبہ دن رات محنت کرتے ہیں، مگر ایک ناکام اور بدعنوان نظام ان کے مستقبل سے کھیل رہا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں، طلبہ، مزدوروں اور عام شہریوں کے مسائل پر حکومت خاموش ہے۔ راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔


