حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت نے طلبہ کو بڑی راحت فراہم کرتے ہوئے تعلیمی سال 2026-27 سے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کی نئی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کے ذریعے گزشتہ کئی برسوں سے جاری بقایاجات اور تاخیر کے مسئلہ کا مستقل حل نکالا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت ہر ماہ 200 کروڑ روپے جاری کرے گی تاکہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کی رقم بروقت طلبا تک پہنچ سکے اور بقایاجات جمع نہ ہوں۔ نئی پالیسی کے تحت ’’فرسٹ اپلائی، فرسٹ ریلیز‘‘ نظام نافذ کیا جائے گا، یعنی جو طلبا پہلے درخواست دیں گے، ان کی درخواستوں کی جانچ کے بعد رقم بھی پہلے جاری کی جائے گی۔
اس اسکیم سے ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیتی، ای بی سی اور معذور طلبا مستفید ہوں گے۔ انہیں ٹیوشن فیس ری ایمبرسمنٹ کے ساتھ ساتھ اسکالرشپ بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت جلد ہی اس سلسلہ میں تفصیلی رہنما خطوط جاری کرے گی۔
واضح رہے کہ تلنگانہ میں گزشتہ کئی برسوں سے فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی میں تاخیر ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ نجی تعلیمی اداروں کے مطابق بقایاجات 10 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔ کئی کالجوں نے احتجاج بھی کیا تھا اور طلبا کو ڈگری و ٹرانسفر سرٹیفکیٹس جاری نہ کرنے کی شکایات بھی سامنے آئی تھیں۔
تلنگانہ ہائی کورٹ نے بھی حال ہی میں حکومت کو ہدایت دی تھی کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل بقایاجات کی ادائیگی کیلئے واضح لائحۂ عمل پیش کیا جائے۔ حکومت کو امید ہے کہ ہر ماہ فنڈز کی باقاعدہ اجرائی کے ذریعے اس دیرینہ مسئلہ کا مستقل حل ممکن ہوگا اور طلبہ و تعلیمی اداروں کا اعتماد بحال ہوگا۔


