حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ نے ایران کے گوروک اور قشم جزائر میں ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، کے مطابق یہ کارروائی ’’دفاعی حملوں‘‘ کے طور پر کی گئی اور اس کا مقصد ایرانی ڈرون سرگرمیوں کو روکنا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایران کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی MQ-1 پریڈیٹر ڈرون کو مار گرایا گیا۔ سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن اور دو یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کو تباہ کیا۔ امریکہ کے مطابق اس کارروائی میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ممکنہ امن معاہدہ سے متعلق رابطے جاری ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی خبر رساں اداروں نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی حملہ کے بعد اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے حملہ کیا گیا تھا۔ دوسری طرف کویت نے بھی پیر کی صبح ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کی تصدیق کی۔
اگر امریکہ اور ایران کے درمیان اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں تو خلیجی خطہ، آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی بازار مزید دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ فی الحال دونوں جانب سے سفارتی رابطوں کا دعویٰ کیا جارہا ہے، لیکن زمینی صورتحال کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔
سینٹ کام نے گوروک اور قشم جزائر میں ایرانی ریڈار و ڈرون کنٹرول سائٹس پر حملوں کی تصدیق کی۔


