‘حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک ہندو خاتون کے مبینہ اغوا کے کیس کی تفتیش کے دوران چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر ہوا ہے کہ خود کو ہندو تنظیم کا لیڈر بتانے والے نکول گوجر نے دو مسلم نوجوانوں کو ’’لو جہاد‘‘ اور گینگ ریپ کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کیلئے ایک منظم سازش تیار کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق نکول گوجر نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ذیشان اور شاہویز نامی دو مسلم نوجوان ایک ہندو خاتون کو زبردستی گاڑی میں لے جا رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے گاڑی کو روک کر خاتون کو اپنی تحویل میں لیا اور دونوں نوجوانوں کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لے لیا۔
تاہم معاملہ اس وقت پلٹ گیا جب خاتون نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ کسی اغوا کا شکار نہیں ہوئی تھی بلکہ پورا واقعہ پہلے سے منصوبہ بند تھا۔ خاتون کے مطابق نکول گوجر نے اسے پیسے اور ملازمت دلانے کا وعدہ کیا تھا اور ان نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے کیلئے کہا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ منصوبہ یہ تھا کہ دونوں نوجوانوں کو گینگ ریپ اور لو جہاد جیسے سنگین الزامات میں پھنسایا جائے اور بعد میں ان سے لاکھوں روپے وصول کیے جائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر تقریباً 10 لاکھ روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
پولیس نے انکشاف کیا کہ نکول گوجر کے خلاف ماضی میں بھی سنگین جرائم کے مقدمات درج ہو چکے ہیں، جن میں گینگ ریپ کا ایک مقدمہ بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ حکام اب اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کی کوئی سازش انجام دی گئی تھی یا نہیں۔
خاتون کے بیان اور دیگر شواہد کی بنیاد پر پولیس نے نکول گوجر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس کی تلاش کیلئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تاہم وہ تاحال مفرور بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ذیشان اور شاہویز کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ پولیس نے کہا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس واقعہ کے بعد لو جہاد جیسے الزامات کے ممکنہ غلط استعمال، فرقہ وارانہ کشیدگی اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کے خدشات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے اور قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔


