اسلامی سزاؤں کی تعریف! ’ہاتھ پیر کاٹ دیں گے، تبھی مجرم خوفزدہ ہوں گے‘: کرناٹک ہائی کورٹ کے ریمارکس

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک ہائی کورٹ نے بڑھتے ہوئے جرائم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کا خوف کمزور پڑنے کے باعث مجرم جرائم کے ارتکاب سے نہیں گھبراتے۔ عدالت نے بعض خلیجی ممالک میں رائج سخت سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر اور سخت قانون نافذ کرنے سے جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ ریمارکس جسٹس آر نٹراج نے منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک 23 سالہ طالب علم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے، جس پر اپنی ہم جماعت کے ساتھ مبینہ عصمت دری کا الزام ہے۔ عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ موجودہ دور میں لوگ جمہوری حقوق اور آزادیوں کو بعض اوقات غلط انداز میں استعمال کرتے ہیں اور قانون کی گرفت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ جسٹس نٹراج نے مشاہدہ کیا کہ ’’قانون اپنے دانت کھوتا جا رہا ہے کیونکہ مجرموں کے ساتھ مطلوبہ سختی سے نمٹا نہیں جاتا۔‘‘

عدالت نے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سخت سزاؤں کے باعث لوگ قانون شکنی سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔ تاہم عدالت کے یہ ریمارکس عمومی مشاہدات تھے اور مقدمے کے حتمی فیصلے کا حصہ نہیں ہیں۔

استغاثہ کے مطابق متاثرہ خاتون اور ملزم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ 2023 میں ملزم نے دوستی سے متعلق معاملات پر بات کرنے کے بہانے اسے ایک اپارٹمنٹ میں بلایا اور وہاں اس کی مرضی کے خلاف جنسی استحصال کیا۔

دفاعی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل تقریباً دو ماہ سے جیل میں ہے اور الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے ہیں، اس لیے اسے ضمانت دی جانی چاہیے۔ تاہم عدالت نے اس مرحلے پر کوئی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو قانون کے مطابق نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔

قانونی حلقوں میں عدالت کے یہ ریمارکس خاصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور جرائم کی روک تھام کے لیے سخت سزا اور مؤثر قانون نافذ کرنے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں