حیدرآباد (دکن فائلز) مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایک امریکی ایئربیس اور فوجی ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا نے جزیرہ قشم میں ایرانی مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔
ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے ایک بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بحرین اور کویت کی جانب داغے گئے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق کویت کی طرف داغے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی جانب داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی جزیرہ قشم میں ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا نے ایرانی علاقے کی جانب جانے والے ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تازہ جھڑپوں کے بعد خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔


