بنگال کے اسکولوں اور مدارس میں ’’وندے ماترم‘‘ لازمی، مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت اعتراض؛ بی جے پی اور مسلم پرسنل لا بورڈ آمنے سامنے

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال میں اسکولوں اور مدارس میں ’’وندے ماترم‘‘ گانے کو لازمی قرار دینے کے سرکاری حکم پر نیا سیاسی اور مذہبی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو یہ حکم واپس لیا جائے یا مسلم طلبا کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے اسکولوں کے بعد مدارس میں بھی صبح کی اسمبلی کے دوران ’’وندے ماترم‘‘ گانے کو لازمی قرار دیا ہے۔ حکم کے تحت طلبہ سے مکمل قومی گیت گوانے کی بات کہی گئی ہے، جس پر مسلم تنظیموں نے مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے کہا کہ کسی طالب علم کو ایسے کلمات یا گیت پڑھنے پر مجبور کرنا جو اس کے مذہبی عقائد سے متصادم ہوں، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی خاص گیت کو لازمی بنانا مناسب نہیں، خاص طور پر جب اس کے بعض اشعار پر مذہبی اعتراضات موجود ہوں۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ مسلمان ملک سے محبت اور آئین کی وفاداری میں کسی سے پیچھے نہیں، لیکن مذہبی عقائد کے خلاف کسی عمل پر مجبور کرنا آئین کے سیکولر ڈھانچے اور ضمیر کی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

دوسری طرف بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں رہنے والے ہر شخص کو ’’وندے ماترم‘‘ کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر کوئی یہاں رہنا چاہتا ہے تو اسے قومی گیت کا احترام کرنا چاہیے۔

اس بیان کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ مسلم تنظیموں، بعض اپوزیشن جماعتوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی یا نظریاتی دباؤ کا مرکز نہ بنایا جائے اور طلبہ کے مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ’’وندے ماترم‘‘ کا معاملہ پہلے بھی کئی بار قومی سطح پر بحث کا سبب بن چکا ہے۔ ایک طبقہ اسے قومی احترام اور ثقافتی ورثے کی علامت قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اس کے بعض حصے مذہبی عقائد سے مطابقت نہیں رکھتے، اس لیے اسے لازمی نہیں بنایا جانا چاہیے۔

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بنگال کی سیاست میں مذہبی شناخت، قوم پرستی اور تعلیمی پالیسیوں سے متعلق بحث پہلے ہی تیز ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس حکم پر قائم رہتی ہے یا مسلم طلبا کے لیے کوئی رعایت یا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں