حیدرآباد (دکن فائلز) جنوبی دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں واقع فلورش اسٹے ہوٹل میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے میں جہاں 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، وہیں چند مسلم نوجوانوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر آگ میں پھنسے افراد کو بچا کر انسانیت، ہمدردی اور ایثار کی ایک شاندار مثال قائم کر دی۔
آگ لگنے کے فوراً بعد حوض رانی گاؤں کے نوجوان افضل، محمد شاہرخ، محمد انیش، محمد عامر اور محمد وسیم موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور کئی گھنٹوں تک لوگوں کی جان بچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔
عینی شاہدین کے مطابق جب عمارت شعلوں کی لپیٹ میں تھی اور لوگ اوپری منزلوں میں پھنسے ہوئے تھے، تب ان نوجوانوں نے قریبی دکانوں سے گدے لا کر زمین پر بچھائے تاکہ لوگ دوسری اور تیسری منزل سے کود کر اپنی جان بچا سکیں۔ ان کی اس بروقت تدبیر سے متعدد افراد محفوظ رہے اور ممکنہ طور پر اموات کی تعداد مزید بڑھنے سے رک گئی۔
امدادی سرگرمیوں کے دوران نوجوانوں نے کئی زخمیوں کو سی پی آر (CPR) بھی دی، جس سے متعدد افراد کی سانسیں بحال ہوئیں۔ پولیس کے مطابق تقریباً 40 افراد کو عمارت سے زندہ نکال لیا گیا۔
دہلی بی جے پی کے رہنما ستیش اپادھیائے نے ان نوجوانوں کی جرات، بہادری اور انسان دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مذہب، قومیت اور شناخت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان نوجوانوں کے نام اعزازی اسناد اور خصوصی ستائش کے لیے پولیس کمشنر کو بھیجے جائیں گے۔
وسیم رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں صرف اتنا معلوم تھا کہ اندر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم نے فوراً گدے لا کر بچھائے اور لوگوں کو محفوظ طریقے سے نیچے اترنے میں مدد دی۔ اس وقت ہمارا مقصد صرف جانیں بچانا تھا۔”
یہ سانحہ جہاں کئی خاندانوں کے لیے غم کا باعث بنا، وہیں ان مسلم نوجوانوں کی بے لوث خدمت نے یہ ثابت کر دیا کہ مشکل گھڑی میں انسانیت سب سے بڑی شناخت ہوتی ہے۔ ان کی جرات، قربانی اور انسان دوستی کو دہلی بھر میں سراہا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی انہیں حقیقی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ مسلم نوجوان اس حقیقت کی زندہ مثال بن گئے کہ پیارے ملک ہندوستان اور ہم وطنوں پر جب کبھی بھی مشکل وقت آیا تو مسلمانوں نے سب سے پہلے آگے بڑھ کر نہ صرف مدد کی ہے بلکہ اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے۔


