ایس آئی آر کے ذریعہ ’حقوق سے محروم ہندوستانیوں۔۔۔۔: اسدالدین اویسی کے خدشات

حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) پر شدید اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس عمل کو ’’حقوق سے محروم ہندوستانیوں‘‘ کا ایک مستقل طبقہ تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت پہلے ہی 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دستاویزات پر مبنی ایس آئی آر مہم چلا کر تقریباً 6.5 کروڑ نام ووٹر لسٹوں سے حذف کر چکی ہے۔ اب انہی اخراجات کا جائزہ لینے اور غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت، حراست اور ملک بدری کے لیے مستقل نظام وضع کرنے کی غرض سے ایک نئی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔

اویسی نے کہا کہ ووٹ کا حق غریب اور کمزور طبقوں کا طاقتور طبقات کے خلاف واحد جمہوری ہتھیار ہے۔ اگر یہ حق چھین لیا گیا تو حکومتیں عوام کو جواب دہ سمجھے بغیر فیصلے کرنے لگیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی مقامات پر ایسے افراد کو سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد سے بھی محروم کیا جا رہا ہے جن کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج ہوئے ہیں۔

مجلس سربراہ نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونا کسی شخص کے غیر شہری ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 27 لاکھ معاملات اب بھی زیرِ غور ہیں اور متاثرہ افراد فارم 6 کے ذریعے دوبارہ اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایس آئی آر سے سب سے زیادہ مسلمان، خواتین، غریب افراد اور مہاجر مزدور متاثر ہوئے ہیں۔ اویسی نے مجوزہ کمیٹی کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی اور شرح افزائش مستحکم ہو چکی ہے، پھر اس نوعیت کی کارروائیوں کا مقصد صرف خوف اور بے چینی کا ماحول پیدا کرنا معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو بار بار مختلف دستاویزات، کے وائی سی اور دیگر سرکاری عمل سے گزرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ حکومت خود عوامی احتساب سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔

واضح رہے کہ تلنگانہ میں 25 جون سے خصوصی ووٹر لسٹ نظرثانی مہم شروع ہونے جا رہی ہے، جس کے پیش نظر اویسی نے اپنے پارلیمانی حلقے میں عوامی بیداری مہم بھی شروع کر دی ہے اور شہریوں سے اپنے ووٹر دستاویزات مکمل رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں