حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں ایبولا وائرس کے شبہ نے محکمۂ صحت کو الرٹ کر دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایبولا جیسی علامات ظاہر ہونے پر تین افراد کو سکندرآباد کے گاندھی اسپتال میں قائم خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا ہے، جہاں ان کی مسلسل طبی نگرانی کی جا رہی ہے۔
محکمۂ صحت کے ذرائع کے مطابق جمعہ کی صبح دو افراد ایبولا سے مشابہ علامات کے ساتھ جوبلی ہلز کے اپولو اسپتال پہنچے تھے۔ ڈاکٹروں نے احتیاطی تدابیر کے تحت دونوں کو فوری طور پر گاندھی اسپتال منتقل کر دیا۔ اس سے قبل ایک اور مشتبہ مریض پہلے ہی گاندھی اسپتال میں زیرِ علاج تھا، جس کے بعد مشتبہ مریضوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں افراد ایک ہی بین الاقوامی پرواز کے ذریعے حیدرآباد پہنچے تھے۔ اس انکشاف کے بعد محکمۂ صحت اور ہوابازی حکام نے متعلقہ پرواز کے دیگر مسافروں کی تفصیلات جمع کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر رابطہ اور نگرانی کا عمل انجام دیا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز سوڈان سے ایتھوپیا کے راستے شمس آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچنے والے 30 سالہ مسافر کو ایئرپورٹ پر اسکریننگ کے دوران شناخت کیا گیا۔ تھرمل اسکریننگ میں اسے 100 ڈگری فارن ہائیٹ بخار پایا گیا۔ مزید جانچ میں معلوم ہوا کہ وہ حالیہ دنوں میں ایبولا سے متاثرہ علاقوں، خصوصاً یوگنڈا اور جنوبی سوڈان، کا سفر کر چکا تھا۔ اسی بنا پر اسے احتیاطاً گاندھی اسپتال کے آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فی الحال تینوں افراد کی حالت مستحکم ہے اور ان میں ایبولا کی شدید علامات جیسے خون بہنا، شدید قے یا دیگر خطرناک پیچیدگیاں ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ حتمی تشخیص کے لیے مریضوں کے خون اور دیگر نمونے جمع کرکے پونے میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (NIV) روانہ کر دیے گئے ہیں۔
تلنگانہ محکمۂ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکام کے مطابق تمام ضروری احتیاطی اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں اور پونے سے آنے والی لیبارٹری رپورٹ کے بعد ہی ایبولا وائرس کی موجودگی یا عدم موجودگی کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔
محکمۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔


