اسلام سے اتنی نفرت کیوں؟ کیرالا میں ’اسلام فرینڈلی جم‘ پر فرقہ پرستوں کا غیرضروری ہنگامہ، سوشل میڈیا پر نئی نفرت انگیز بحث، گودی میڈیا کا مکروہ چہرہ

حیدرآباد (دکن فائلز) کیرالا کے ضلع پلکّڈ میں ایک “اسلام فرینڈلی جم” کے قیام نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جم انتظامیہ کی جانب سے خواتین اور مردوں کے لیے الگ اوقات، موسیقی پر پابندی اور پردے و حیا کے تقاضوں کے مطابق ماحول فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

جم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان مسلمانوں کے لیے کیا جا رہا ہے جو اپنی مذہبی اقدار کے مطابق ورزش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں مذہبی یا ثقافتی ضروریات کے مطابق مختلف سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس لیے اس طرز کے جم کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم اس اعلان کے بعد بعض سیاسی جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی۔ بی جے پی رہنماؤں نے اسے “شریعت بمقابلہ آئین” کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کانگریس حکومت کو نشانہ بنایا، جبکہ حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دیگر مذاہب اور طبقات کے لیے مخصوص سہولیات قابل قبول ہیں تو مسلمانوں کے لیے مذہبی اصولوں کے مطابق جم قائم کرنے پر اعتراض کیوں؟

یہ تنازعہ دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دے رہا ہے کہ کیا مسلمانوں کی مذہبی ضروریات کے مطابق قائم کی جانے والی ہر سہولت کو سیاسی اور نظریاتی عینک سے دیکھا جائے گا؟ یا پھر اسے مذہبی آزادی اور شخصی انتخاب کا حصہ سمجھا جائے گا؟ یہی سوال سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے جہاں بہت سے صارفین پوچھ رہے ہیں: “اسلام سے اتنی نفرت کیوں؟”

گودی میڈیا بھی اپنی ناپاک حرکتوں کو جاری رکھتے ہوئے غیرضروری طور پر فرقہ پرست شدت پسندوں کی تائید میں آگے آگیا۔ خبر کو توڑ مڑور کر پیش کیا گیا اور سوشل میڈیا و گودی میڈیا میں جتنا ہوسکے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی بھرپور و ناپاک کوشش کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں